جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے حیران کن طور پر گنج پن کو ملک کے لیے ایک سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ قرار دیا ہے، اور اسے “بقا کا معاملہ” بھی کہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر نے کہا کہ بالوں کا جھڑنا صرف ظاہری یا جمالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی، اور سماجی تعلقات میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ نوجوانوں اور درمیانی عمر کے افراد میں خاص طور پر عام ہوتا جا رہا ہے اور اگر اسے نظر انداز کیا گیا تو اس کے سماجی اور نفسیاتی اثرات وسیع پیمانے پر ہو سکتے ہیں۔
صدر لی جے میونگ نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سرکاری سطح پر تحقیق، آگاہی پروگرام اور ممکنہ سبسڈی کی تجاویز پیش کی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو مالی اور عملی مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف ذاتی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے بلکہ ملک کی مجموعی نفسیاتی صحت اور سماجی توازن کو مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
صدر کے اس بیان کے بعد جنوبی کوریا میں عوامی اور سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طبقہ اس اقدام کو ایک مثبت اور جدید قدم قرار دے رہا ہے، جس سے عوامی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود کو فروغ ملے گا۔ جبکہ دوسرا طبقہ اسے حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان قرار دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پہلے معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل حل کرنا زیادہ ضروری ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا میں گنج پن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی واقعی ایک حقیقی مسئلہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں بالوں کے جھڑنے کا اثر ان کی سماجی زندگی، روزگار کے مواقع اور مجموعی ذہنی سکون پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے اس پر توجہ نہ دی تو اس کے سماجی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں عوامی صحت کے لیے ایک چیلنج بن جائیں گے۔
صدر کے بیان نے عالمی میڈیا میں بھی سنسنی پیدا کر دی ہے اور دنیا بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا گنج پن واقعی کسی ملک کے لیے “بقا” سے جڑا مسئلہ ہو سکتا ہے یا یہ صدر کا ایک منفرد اور توجہ کھینچنے والا اقدام ہے۔ جنوبی کوریا میں یہ قدم ملک میں صحت، خود اعتمادی، اور سماجی بہبود کے مسائل پر سرکاری سطح پر توجہ دینے کے لیے ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔
