تہران / کراکس: ایران اور وینزویلا کے درمیان اقتصادی تعلقات دوبارہ عالمی سیاسی اور میڈیا مباحثے میں آ گئے ہیں، خاص طور پر امریکا کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد۔ اس اقدام نے لاطینی امریکا میں ایران کی سرمایہ کاری اور اقتصادی مفادات کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کابینہ اجلاس میں تصدیق کی کہ وینزویلا سے ایران کے واجب الادا مطالبات کی وصولی وزارت خارجہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراکس میں ایرانی سفارت خانے کا عملہ تاحال موجود ہے اور وہ موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں وینزویلا میں توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے، ہاؤسنگ اور زراعت کے شعبوں میں ایک پیچیدہ سرمایہ کاری کا جال بچھایا ہے۔ 2022 میں دونوں ممالک کے درمیان 20 سالہ جامع تعاون کی دستاویز پر دستخط ہوئے۔ سرکاری کسٹمز کے مطابق ایران کی وینزویلا برآمدات 16 کروڑ ڈالر ہیں، تاہم دیگر ذرائع کے مطابق حقیقی حجم 2 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جس کی بڑی وجہ براہ راست بارٹر سسٹم (اشیاء کے تبادلے) میں لین دین ہے۔
توانائی کے شعبے میں ایران نے وینزویلا کی ریفائنریوں کی مرمت اور توسیع کے لیے کروڑوں یورو کے معاہدے کیے۔ بحری نقل و حمل میں ایرانی کمپنی "صدرا” نے چار آئل ٹینکرز تیار کیے جن کی مالیت 12 سے 14 کروڑ ڈالر کے درمیان ہے۔ علاوہ ازیں ایران خودرو اور سائپا وینزویلا میں گاڑیاں اسمبل کر رہی ہیں۔
وینزویلا نے ایران کو دس لاکھ ہیکٹر اراضی دینے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ایرانی ٹریکٹر پلانٹ وہاں سالوں سے فعال ہے۔ ہاؤسنگ کے شعبے میں ایران نے ہزاروں مکانات تعمیر کیے، مگر وینزویلا کے معاشی بحران کے باعث ایرانی کمپنیوں کے کروڑوں ڈالر کے مطالبات زیر التوا ہیں۔
مادورو کی گرفتاری کے بعد تہران میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ ایران کی وینزویلا میں سرمایہ کاری شام میں بشار الاسد کے بعد ہونے والے نقصانات کی طرح خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایران نے شام میں تقریباً 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جو سیاسی تبدیلی کی نذر ہو گئی۔ وینزویلا ایران کا لاطینی امریکا میں سب سے مضبوط اقتصادی اور سکیورٹی گڑھ رہا ہے، لہذا یہاں اقتدار کی تبدیلی ایران کے لیے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جیو پولیٹیکل دھچکا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
عراقچی نے زور دیا کہ ایران کی موجودہ کوششیں صرف مالی مفادات کے حصول تک محدود نہیں بلکہ یہ وینزویلا میں تہران کی اقتصادی اور سکیورٹی اثرات کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ ایران کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ اور علاقائی سٹریٹجک مقاصد کو کس طرح یقینی بناتا ہے۔
