اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف حالیہ جنگ میں پاکستان کے جنگی طیارے اور دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر ٹیسٹ ہو چکی ہیں اور اس کامیابی کے بعد پاکستان کو دفاعی ساز و سامان، بالخصوص جنگی طیاروں کے اتنے بڑے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں کہ آئندہ چھ ماہ میں پاکستان آئی ایم ایف کو خیرباد کہنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام "کیپٹل ٹاک” میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ایک اور جنگ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے مؤثر اور بھرپور جواب کو پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس جنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ساکھ نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید متاثر ہوئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مئی 2025 کی جنگ کے بعد بھارت کا اعتماد بری طرح ٹوٹ چکا ہے اور اگر بھارت نے آئندہ بھی کسی قسم کی جارحیت کی تو اسے اسی نوعیت کا سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران بھارت نے امریکا اور چین دونوں سے رابطے کیے، جس سے اس کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا آج پوری دنیا مان رہی ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان کو آئی ایم ایف جیسے اداروں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
ایک اور اہم بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر امریکا واقعی انسانیت کا دوست ہے تو اسے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دعا کریں ترکیہ نیتن یاہو کو اغوا کر لے اور سارا حساب برابر ہو جائے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی قابلِ اعتماد نہیں اور ان کے بھارت سے روابط موجود ہیں۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے کچھ عناصر ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر چین کو تائیوان سے روکا جاتا ہے تو پھر یوکرین جنگ کو بھی قانونی جواز مل جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں روسی حملے کے پیچھے کم از کم کوئی نہ کوئی جواز پیش کیا گیا، لیکن وینزویلا پر حملے کا تو کوئی جواز ہی موجود نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ ورلڈ آرڈر تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔
ایران پر امریکی حملہ پاکستان کے لیے چیلنج ہوگا،خواجہ آصف نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے سے پاکستان کے لیے سنگین چیلنجز پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو اسرائیل امریکا کو بیوقوف بنا رہا ہے یا پھر دونوں مل کر خطے میں تباہی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسرائیل 2012 اور 2018 میں اقوام متحدہ میں یہ دعوے کرتا رہا کہ ایران چند دنوں میں ایٹم بم بنا لے گا، جو بعد میں محض جنگی جواز ثابت ہوئے۔
