آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے غزہ کی پٹی میں کسی بھی ممکنہ امن مشن کے تحت آذربائیجانی فوج کی تعیناتی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر، بشمول غزہ، کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا استحکام مشن میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
آذربائیجانی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر الہام علیوف کا کہنا تھا کہ آذربائیجان نہ تو غزہ میں اور نہ ہی دنیا کے کسی اور تنازع میں بین الاقوامی فوجی مشن کا حصہ بننے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی صورت میں فوجی آپریشن یا مسلح کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔
صدر علیوف نے انکشاف کیا کہ اس معاملے پر امریکی انتظامیہ سے رابطہ ضرور رہا ہے، تاہم آذربائیجان کا مؤقف ابتدا ہی سے واضح ہے۔ ان کے مطابق آذربائیجان نے واشنگٹن کو مجوزہ امن مشن کے طریقہ کار، دائرہ کار اور قانونی حیثیت سے متعلق 20 سے زائد سوالات پر مشتمل ایک تفصیلی فہرست بھی ارسال کی تھی، تاکہ ممکنہ ذمہ داریوں اور خطرات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آذربائیجان کسی بھی بین الاقوامی فوجی مشن، بالخصوص غزہ میں استحکام سے متعلق کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ صدر علیوف کے اس بیان کو خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم اور واضح سفارتی مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔
