پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے پارٹی کے مرکزی رہنما شہباز گل پر سکھ برادری کی جانب سے کرتارپور رہداری کے افتتاح کے موقع پر تحفے میں ملنے والے سونے کے لوٹے کی چوری کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے، جس نے پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
سماء نیوز کے پروگرام ’ریڈ لائن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ایسے افراد کو قیادت سونپی گئی ہے جو مبینہ طور پر لوٹا چور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ برادری نے بطور تحفہ شہباز گل کو سونے کا لوٹا دیا تھا، تاہم یہ تحفہ اپنی اصل جگہ تک نہیں پہنچ سکا۔
شیر افضل مروت کے مطابق شہباز گل نے بشریٰ بی بی کو پہچانے کے نام پر سونے کا لوٹا اپنے پاس رکھا اور بعد میں وہ وہاں موجود نہیں پایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سونے کے لوٹے کی تصاویر بھی بنائی گئی تھیں اور بعد ازاں یہ لوٹا ایک پیٹرولیم انڈسٹری کے ٹائیکون کو فروخت کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ شہباز گل کو اسی مبینہ سونے کے لوٹے اور دو موبائل فونز کی چوری کے الزام میں پارٹی سے نکالا گیا، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ اہم حیثیت دے دی گئی۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں نے ایسے افراد کو رہنما بنایا ہوا ہے جن پر سنگین الزامات ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کے دوران شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ شہباز گل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروانے کے نام پر لوگوں سے پیسے لیتے تھے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردوں کا حمایتی کہنا غلط ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر پی ٹی آئی کا کوئی رہنما جیل میں وفات پا گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی بے گناہ جیل میں ہیں اور اگر پی ٹی آئی کے 7 یا 8 سینئر رہنماؤں کو بانی سے ملاقات کی اجازت دی جائے تو بانی پی ٹی آئی خود حیران ہو جائیں گے۔
شیر افضل مروت نے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علی ظفر کے بغض میں علامہ راجا ناصر عباس کو آگے لایا گیا، جبکہ بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کے بغض میں محمود خان اچکزئی کو شامل کیا گیا، جو پارٹی کے اندرونی تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان تحریک انصاف پہلے ہی شدید سیاسی دباؤ اور اندرونی اختلافات کا سامنا کر رہی ہے، اور اس تازہ الزام نے پارٹی قیادت کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
