پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان آئندہ برس جون تک عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے نکل آئے گا۔ لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ 2018 میں پاکستان پر ایسے حالات مسلط کیے گئے جن کے باعث ملک کئی سال پیچھے چلا گیا، جبکہ مہنگائی اور غربت عوام پر تھوپ دی گئی، تاہم موجودہ حکومت نے قانونی اور آئینی طریقے سے ان حالات کے ذمہ دار وزیراعظم کو ہٹا دیا۔
رانا مشہود نے سابق وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کی گئی، جس کے اثرات معیشت، خارجہ پالیسی اور ریاستی اداروں تک محسوس کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 250 سے زائد پیشیاں بھگتیں، مگر ان کے خلاف بنائے گئے تمام کیسز بالآخر جھوٹے ثابت ہوئے، جبکہ ’’ایبسلوٹی ناٹ‘‘ کا نعرہ لگانے والے خود انہی قوتوں کے قدموں میں جا بیٹھے جن پر وہ الزامات لگاتے رہے۔
چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے سوال اٹھایا کہ اگر کیسز بے بنیاد ہیں تو پی ٹی آئی کے چیئرمین عدالتوں کا سامنا کرنے سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ گھڑی کیس ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، جس میں مزید ابہام کی گنجائش نہیں۔ رانا مشہود نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو چکا تھا اور کوئی ملک سنجیدگی سے پاکستان کو نہیں پوچھتا تھا، جبکہ موجودہ حالات میں جب خطے میں کشیدگی بڑھی تو متعدد ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات، سفارتی سرگرمیوں اور نوجوانوں کے لیے جاری منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوگا
