اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تحریک تحفظ آئین پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحریک کوئی بڑی عوامی قوت نہیں بلکہ چند محدود افراد پر مشتمل ایک گروہ ہے، جس کی عوام میں کوئی خاص پذیرائی موجود نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لوگ تانگے کی سواریاں ہیں اور اس سے زیادہ اس تحریک کے بارے میں کچھ کہنا ضروری نہیں سمجھتا۔ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ حکومت آئین، قانون اور ریاستی اداروں کے استحکام کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور ملک میں کسی کو بھی انتشار، بدامنی یا عدم استحکام پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل، ریاستی نظم و ضبط اور آئینی حدود کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے، جبکہ غیر سنجیدہ اور محدود سوچ رکھنے والی تحریکوں سے ریاستی رِٹ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام بنائی جائیں گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی وزیر کا یہ بیان سیاسی محاذ آرائی میں مزید تیزی لا سکتا ہے، جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے ردعمل آنے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
