خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کراچی میں نمائش چورنگی پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ سندھ حکومت نے جلسہ روکنے کے لیے ہر ممکن رکاوٹ ڈالی، مگر عوام نے تمام رکاوٹیں عبور کرکے جلسے کو کامیاب بنا دیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت مختلف مقامات پر پولیس گردی کی گئی، کارکنوں کو ہراساں کیا گیا، لیکن اس کے باوجود عوام بڑی تعداد میں جلسہ گاہ پہنچے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی حکومت کا رویہ ہمارے ساتھ مثبت نہیں رہا اور سندھ میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی، تاہم اگلا پڑاؤ خیبرپختونخوا ہوگا، جہاں سے اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کا پیغام پورے ملک میں پہنچایا جائے گا۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا نے کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے باشعور عوام نے گھروں سے نکل کر یہ ثابت کر دیا کہ جو لوگ سمجھ رہے تھے بانی پی ٹی آئی کی سیاست ختم ہوچکی ہے، وہ آج آکرخود دیکھ لیں۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ سندھ حکومت نے نہ صرف جلسے میں رکاوٹیں ڈالیں بلکہ سندھی ثقافت کی علامت سندھی ٹوپی اور اجرک کی بھی بے حرمتی کی، جو سندھ کی روایات اور ثقافت پر حملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتے ہیں، وہ جمہوریت پسند ثابت نہیں ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے دیگر قوتوں کے ساتھ مل کر آئین کا ڈھانچہ تبدیل کیا اور سندھ میں عملاً ڈکٹیٹرشپ قائم کر رکھی ہے۔
وزیرِاعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام ڈی چوک جانے کے لیے تیار ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی کال کا انتظار کر رہے ہیں۔
“ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ ہمارے حقوق سلب کیے جائیں یا قوم کے لیڈر کو بلاجواز جیل میں رکھا جائے۔”
