امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے درمیان ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایران بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو جوابی حملے میں اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی فوجی اڈے ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔
محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے، اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ایران کی اس وارننگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر اسرائیل کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، خاص طور پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بار بار ایران میں مداخلت کے بیانات کے بعد۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ ایران کے کچھ شہروں میں عوام کا کنٹرول بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب اسے اس کے نتائج کا سامنا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کی یہ جنگ خطے کو ایک خطرناک مرحلے کی طرف لے جا رہی ہے، جہاں کسی بھی وقت صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
