چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی نے حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اب ’سپر اسپیڈ‘ کے دعووں سے نکل کر ’ونڈر بوائے‘ کی تلاش میں مصروف ہو چکی ہے، مگر ملک کے بنیادی مسائل آج بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے زور دیا کہ حکومت اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن میں بلاجواز تاخیر ختم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مزید تاخیر کی کوئی آئینی یا سیاسی وجہ موجود نہیں اور حکومت کو فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئے سال کے آغاز کے باوجود عوام کو کسی مثبت تبدیلی کا احساس نہیں ہو رہا۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی جیسے مسائل بدستور موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے دعوے محض زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سندھ کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کا دورہ مجموعی طور پر کامیاب رہا اور اس سے بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ ملا۔ تاہم انہوں نے سندھ حکومت کے دورے کے آخری دن کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل جمہوری اقدار کے عین مطابق نہیں تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ٹوپی اور اجرک محض لباس نہیں بلکہ ثقافتی شناخت کی علامت ہیں، اور ان کا احترام نہ کرنا عوامی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پاکستان میں سیاست کرنے والوں کو عوام کی آواز سننا ہوگی اور فیصلے ایوانوں کے بجائے عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں دہشتگردی کی ہر شکل کی کھل کر مذمت ہونی چاہیے اور اس کے خلاف متحد ہو کر مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک عوامی مسائل کو ترجیح نہیں دی جائے گی اور جمہوری روایات کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، ملک میں سیاسی استحکام ممکن نہیں۔
