اسلام آباد کی عدالت میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کے مقدمے کی سماعت شدید کشیدگی اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گئی۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔
سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری گواہ شہروز پر خود جرح کرنا چاہتی ہیں اور وہ ذاتی طور پر کچھ سوالات پوچھنا چاہتی ہیں۔ اس پر جج افضل مجوکا نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گواہ پر جرح مکمل کی جائے، بصورت دیگر جرح کا حق ختم کر دیا جائے گا۔
اسی دوران اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری نعیم گجر بھی عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ پیر کی تاریخ دے دی جائے، اس کے بعد کوئی التوا نہیں مانگا جائے گا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری کی طبیعت ناساز ہے اور وہ خود جرح کرنا چاہتی ہیں۔
تاہم پراسیکوشن نے التوا کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ عدالت گواہ سے حلف لے اور فوری طور پر جرح کا آغاز کرے۔ اسی نکتے پر بار صدر نعیم گجر اور پراسیکیوٹر رانا عثمان کے درمیان کمرۂ عدالت میں شدید تلخ کلامی شروع ہو گئی، جس کے باعث عدالتی ماحول کشیدہ ہو گیا۔
تلخ کلامی شدت اختیار کرنے پر جج افضل مجوکا اپنی نشست چھوڑ کر چیمبر میں چلے گئے اور کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔
وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر رانا عثمان نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت میں افسرِ عدالت پر ہاتھ اٹھایا گیا اور سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔
تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اس کے ساتھ ساتھ ملزمان کا گواہ پر جرح کا حق بھی ختم کر دیا۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ کل ملزمان کا دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کیا جائے گا جبکہ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔یہ واقعہ قانونی حلقوں میں شدید بحث کا باعث بن گیا ہے اور کمرۂ عدالت میں نظم و ضبط کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
