پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر قانونی اور آئین و قانون کے منافی قرار دے دیا ہے۔ جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتیشی عمل مکمل ہو چکا تھا، اس کے باوجود معاملہ فارنزک لیب تک کیسے پہنچا، یہ ایک سنگین قانونی سوال ہے جس کا جواب دیا جانا چاہیے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ نہ صرف مشکوک ہے بلکہ اسے تیار کرنے کا پورا عمل بھی قانونی دائرہ کار سے باہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس رپورٹ اور تفتیشی طریقہ کار کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور قانونی جنگ ہر سطح پر لڑی جائے گی۔ ان کے مطابق جب ایک کیس کی تفتیش مکمل ہو چکی ہو تو بعد میں فارنزک شواہد کا شامل کیا جانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے قریبی ساتھی سہیل آفریدی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند ماہ پہلے انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے، تاہم وہ پاکستان تحریک انصاف کا اثاثہ ہیں اور کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ انہیں سیاسی انتقام کے تحت راستے سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو جان بوجھ کر جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مذاکرات کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے اصولوں پر بات کرنی ہے تو پی ٹی آئی اس کے لیے تیار ہے، لیکن اصل نکات شفاف انتخابات، عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور آزاد عدلیہ کی بحالی ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی جانب سے مذاکرات کے لیے علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو اختیار دیا گیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کسی آسائش، مفاد یا چور دروازے کے ذریعے بات چیت پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے تلخ لہجے میں کہا کہ پہلے بھی حکومت کے ساتھ بیٹھے، چائے بسکٹ پیے مگر نتیجہ صفر رہا، حتیٰ کہ ملاقات کے لیے بھی یہ کہا جاتا ہے کہ پوچھ کر بتائیں گے، اب ایسا نہیں ہوگا بلکہ پارٹی اپنا مقدمہ براہِ راست عوام کے سامنے رکھے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق اپنی رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قریبی ساتھی سہیل آفریدی، پی ٹی آئی رہنما کامران بنگش، سابق وزیر خزانہ تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی مبینہ موجودگی کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔
