دمشق:شامی صدر احمد الشرع نے ایک خصوصی اور تاریخی فرمان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کرد نژاد شامی شہری شامی قوم کا ایک بنیادی اور اصل حصہ ہیں، اور ان کی ثقافتی و لسانی شناخت متحدہ اور کثیر جہتی شامی قومی شناخت کا لازمی جزو ہے۔
سال 2026 کے صدارتی فرمان نمبر 13 کے مطابق ریاست ثقافتی اور لسانی تنوع کے تحفظ کی پابند ہوگی اور قومی خودمختاری کے دائرے میں رہتے ہوئے کرد شہریوں کو اپنے ثقافتی ورثے، فنون کے احیاء اور مادری زبان کے فروغ کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
کرد زبان، شہریت اور تہوار کو آئینی تحفظ حاصل ہوگا،فرمان کے آرٹیکل 3 میں کہا گیا ہے کہ کرد زبان کو ایک قومی زبان تسلیم کیا جائے گا، اور ان علاقوں میں جہاں کرد آبادی نمایاں ہے، وہاں سرکاری و نجی اسکولوں میں اسے اختیاری مضمون یا ثقافتی سرگرمی کے طور پر پڑھانے کی اجازت ہوگی۔
آرٹیکل 4 کے تحت صوبہ حسکہ میں 1962 کی متنازع مردم شماری کے نتیجے میں نافذ کیے گئے تمام قوانین اور غیر معمولی اقدامات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے پایا ہے کہ شام میں مقیم تمام کرد نژاد افراد، جن میں مکتوم القید (بغیر رجسٹریشن والے افراد) بھی شامل ہیں، کو شامی شہریت دی جائے گی اور انہیں حقوق و فرائض میں مکمل برابری حاصل ہوگی۔
فرمان کے آرٹیکل 5 کے مطابق 21 مارچ کو نوروز کو پورے جمہوریہ شام میں سرکاری تعطیل قرار دے دیا گیا ہے، اور اسے بہار، بھائی چارے اور قومی ہم آہنگی کی علامت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
امتیاز سلوک پر پابندی، فتنہ انگیزی جرم قراردی گئی ہے،آرٹیکل 6 میں ریاستی میڈیا اور تعلیمی اداروں کو جامع قومی بیانیہ اپنانے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ نسلی یا لسانی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز، اخراج یا نفرت انگیزی کو قانوناً جرم قرار دیا گیا ہے۔ قومی فتنہ انگیزی پر اکسانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آرٹیکل 7 کے تحت متعلقہ وزارتوں اور حکام کو اس فرمان پر عملدرآمد کے لیے فوری ہدایات جاری کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
صدر احمد الشرع نے اس موقع پر شام میں مقیم کردوں کے نام ایک خصوصی پیغام بھی جاری کیا، جس میں انہوں نے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور فتنہ انگیز بیانیے پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کوئی کرد شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، وہ ریاست کا دشمن سمجھا جائے گا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد شام کی بہتری، ترقی اور قومی اتحاد ہے
اربیل میں موجود ایک مغربی سفارت کار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ فرمان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکہ، فرانس اور برطانیہ دمشق اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں تاکہ کسی بڑے فوجی تصادم کو روکا جا سکے جس کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔
صدر احمد الشرع اس سے قبل تصدیق کر چکے ہیں کہ 10 مارچ کو ان اور ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی کے درمیان ہونے والے معاہدے میں وفاقیت کے بغیر متحدہ شام پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کی ذمہ داری اب ایس ڈی ایف پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ شام خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔
“میں دھمکی نہیں دے رہا، میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے اپنی نصف سے زیادہ زندگی جنگ میں گزاری ہے۔ دھمکیاں کمزوروں کا ہتھیار ہوتی ہیں، میں صرف حقیقت بیان کر رہا ہوں،” صدر احمد الشرع نے کہا۔
یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے حلب کے علاقوں اشرفیہ، شیخ مقصود اور بنی زید میں شامی فوج اور ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپوں کے بعد سامنے آئی، جن کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ اگرچہ بعد ازاں جنگ بندی اور ایس ڈی ایف جنگجوؤں کے بغیر ہتھیار شمال مشرق کی جانب انخلا کا اعلان کیا گیا، تاہم حالیہ دنوں میں کشیدگی مشرقی دیہی حلب، خاص طور پر دیر حافر منتقل ہو گئی ہے، جہاں فوج نے ان علاقوں کو بند فوجی زون قرار دے دیا ہے۔
