لاہور:اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر افواجِ پاکستان اور عدلیہ کے خلاف کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کیونکہ قومی اداروں کے وقار اور سالمیت کا تحفظ ان کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو چاہیے کہ پارلیمنٹ میں آ کر عوام کی خدمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج پُرامن ہو تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، جبکہ اپوزیشن لیڈر اگر حق اور سچ پر مبنی بات کریں گے تو انہیں ایوان میں بولنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔
ایاز صادق نے واضح کیا کہ وہ اس بات کے پابند ہیں کہ پارلیمنٹ کے فلور پر پاکستان مخالف بیانیے کو کسی صورت جگہ نہ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان اور عدلیہ ریاست کے مضبوط ستون ہیں اور ان کے خلاف غیر ذمہ دارانہ گفتگو ناقابلِ قبول ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس سے آج پاکستان کے دوستانہ تعلقات نہ ہوں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مافیا عناصر ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں، مگر حق اور سچ کی راہ ان کے مفادات کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔
وزیر اعظم سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے مسلسل مشاورت کرتے ہیں اور وزیراعظم کبھی انہیں اداروں کے دفاع سے نہیں روکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آج جس سطح پر ہے، ماضی میں کبھی اتنی مضبوط نہیں رہی۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو صرف ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ مسائل کا سامنا ہے، جو ان کے بقول پاکستانی بچوں کی جانوں سے کھیلتا ہے اور خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے یہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایوان کے اندر ریاستی اداروں کے احترام، نظم و ضبط اور پارلیمانی روایات کے تحفظ پر سختی سے عمل کیا جائے گا
