امریکا اور یورپ کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ جزیرہ گرین لینڈ کا مؤثر دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکا کا حصہ بن جائے، کیونکہ یورپ اس خطے کے تحفظ کے لیے انتہائی کمزور ہے۔
چینل این بی سی کے پروگرام فیس دی پریس میں انٹرویو دیتے ہوئے سکاٹ بیسنٹ نے ڈنمارک اور یورپی یونین کو روسی اور چینی عزائم کے مقابلے میں ناکام قرار دیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا دفاع کیا جس کے تحت گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے غیر معمولی معاشی دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے آٹھ یورپی ممالک پر 10 سے 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹیز عائد کرنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی ایکٹ کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل قومی ہنگامی صورتحال وہ ہے جو مستقبل کے کسی بڑے بحران کو روک سکے۔
بیسنٹ نے واضح کیا کہ امریکا اپنی معاشی طاقت کو قطبِ شمالی میں ممکنہ فوجی تصادم روکنے کے لیے بطور پیشگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور امریکی کنٹرول سب کے لیے حفاظتی حصار ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس اقدام کا روس کے کریمیا کے الحاق سے موازنہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک بالآخر اسے گرین لینڈ، یورپ اور امریکا کے مفاد میں سمجھیں گے، جبکہ فوجی آپشن پر سوال کے جواب میں کہا کہ فی الحال معاشی دباؤ ہی مذاکرات کا ذریعہ ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برسلز میں یورپی یونین کے سفرا امریکی دھمکیوں کے جواب پر ہنگامی مشاورت کر رہے ہیں اور تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اس صورتحال سے ایک وسیع تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے جو نیٹو اتحاد کو بھی کمزور کر دے گی۔
