اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں زور دے کر کہا کہ پاکستان کے استحکام اور ملک کی بقا کے لیے اب فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے، جن میں مضبوط لوکل گورنمنٹ اور یکساں نظامِ تعلیم کو فروغ دینا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سابق حکمران ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں لوکل باڈی کے انتخابات کرائے گئے، لیکن موجودہ دور میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات مسلسل التوا کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ الیکشن شیڈول آ بھی جائے تو بھی مختلف بہانے بنا کر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ خواجہ آصف کے مطابق، ملک اور نظام کی بقا کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے تاکہ عوام کو ہر سطح پر بااختیار بنایا جا سکے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کے موجودہ صدر بھی ایک مضبوط سیاسی عمل سے ابھر کر سامنے آئے، اور قیادت کی پیداوار اسی طرح ممکن ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مضبوط لوکل گورنمنٹ عوام کو بااختیار بنانے اور ملک میں استحکام قائم کرنے کی کلید ہے۔
کراچی میں حالیہ آگ لگنے کے واقعے کو وزیر دفاع نے نظام کی کمزوری اور تباہی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ اگر عوامی سطح پر مضبوط لوکل گورنمنٹ نہ ہو تو ملک میں بحرانوں کا حل وزارت دفاع یا فائر بریگیڈ تک محدود رہ جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے، جو وفاق اور صوبوں کو نئی نسل کے صحیح تعلیمی معیار اور شناخت سے آگاہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ یکساں نظامِ تعلیم ایک قوم بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ نظام آج تک نہ بن سکا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اب ایسا نظام بننا چاہیے جس میں اختیارات صوبے سے تحصیل اور وارڈ کی سطح تک منتقل ہوں، تاکہ فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم میں شفافیت اور مؤثریت ممکن ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ناگزیر قدم ہے۔
