اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے میں کسی بھی تیسرے ملک کی شمولیت کا فیصلہ دونوں ممالک باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دی جا سکتی ہے اور ترکیہ سمیت دیگر دوست ممالک کی شمولیت بھی ممکن ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اسلامی دنیا کو مجموعی طور پر درپیش سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر ایک جامع اور مربوط دفاعی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مسلم ممالک کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس تعاون اور سٹریٹیجک ہم آہنگی کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ خطے اور امتِ مسلمہ کو درپیش خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مثالی اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عزائم کسی ملک کے خلاف نہیں ہیں اور پاکستان کی حمایت اسی اصولی مؤقف پر مبنی ہے کہ ایران ایک محفوظ، خودمختار اور مستحکم ریاست رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام ہمارے بھائی ہیں اور پاکستان ایران تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور علاقائی امن کے اصولوں پر استوار ہیں۔
وزیر دفاع نے داخلی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کی اتحادی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی بڑے آپریشن کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے اور اس حوالے سے تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے کسی قسم کی مصلحت یا کمزوری کی گنجائش نہیں۔
اسرائیل کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس سے نہ صرف خطے بلکہ متعدد ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی پالیسیوں نے مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے اور عالمی برادری کو اس پر سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو غزہ سے متعلق قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ دعوت پاکستان کے عالمی سفارتی کردار اور مسئلہ فلسطین پر اس کے مؤقف کی بین الاقوامی سطح پر اہمیت کا اعتراف ہے۔
مجموعی طور پر وزیر دفاع کے بیانات خطے میں بدلتی ہوئی دفاعی، سفارتی اور سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں پاکستان ایک جانب مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کی بات کر رہا ہے تو دوسری جانب علاقائی امن، ہمسایہ ممالک کے استحکام اور عالمی سطح پر فعال سفارتکاری کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔
