اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نےووٹر کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو دوٹوک الفاظ میں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ نہ تو حکومت اس حوالے سے کسی قسم کی قانون سازی پر غور کر رہی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی بل تیار کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے باضابطہ بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور ان کے جمہوری و سیاسی حقوق سے محروم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کا حق نوجوانوں کی آواز اور شمولیت کی علامت ہے، جسے محدود کرنے کا کوئی تصور حکومت کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
وفاقی وزیر نے ووٹنگ کی عمر بڑھانے سے متعلق افواہوں کو غلط فہمی اور منظم غلط معلومات پھیلانے کی مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں کا مقصد نوجوانوں میں بے چینی اور سیاسی شکوک پیدا کرنا ہے، جو کہ قومی مفاد کے خلاف ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے، ان کی سیاسی تربیت اور فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر کردار دینے پر یقین رکھتی ہے، نہ کہ انہیں ان کے بنیادی آئینی حق سے محروم کرنے پر۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ حلقوں میں ووٹنگ کی عمر 25 سال کرنے سے متعلق بحث نے زور پکڑا تھا، تاہم حکومت نے واضح، حتمی اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کے مطابق 18 سال کی عمر کے تمام اہل نوجوان بدستور اپنا ووٹ ڈالنے کے آئینی حق سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔
