جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ حکومت گرانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے باوجود جے یو آئی کو بھی اب پاکستان تحریک انصاف کی طرح سیاسی طور پر مائنس کر دیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی نے تنِ تنہا احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا، جس میں بعد ازاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی شامل ہوئیں، اور اسی اتحاد کے نتیجے میں ایک حکومت کا تختہ الٹا گیا اور نئی حکومت قائم ہوئی، جس کا جے یو آئی بھی حصہ تھی، مگر بعد میں پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ جے یو آئی کو بھی سیاسی فیصلوں سے باہر کر دیا گیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ جب حکومتوں کو عددی برتری حاصل ہو جاتی ہے تو وہ اتحادی جماعتوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتی ہیں، یہی صورتحال 27ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی رہی، جہاں نہ جے یو آئی سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی اعتماد میں لیا گیا، جبکہ اب 28ویں آئینی ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں مگر اس بارے میں بھی جماعت کو آگاہ تک نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر جے یو آئی نے حکومت کا ساتھ ضرور دیا تھا لیکن حکومت کی 50 سے زائد مجوزہ ترامیم کم کروا کر صرف 20 سے 22 ترامیم منظور ہونے دی گئیں۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی اس وقت کسی بڑے احتجاج کی تیاری اس لیے نہیں کر رہی کہ ماضی میں ان کے احتجاج اور دباؤ کا سیاسی فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اٹھایا، جبکہ اب خدشہ ہے کہ کہیں اس کا فائدہ پی ٹی آئی نہ لے جائے، اسی لیے احتجاجی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جماعت نظم و ضبط سے محروم اور محض ون مین شو ہے، جس کی مقبولیت کسی نظریے کے بجائے عمران خان کی شخصیت تک محدود ہے، جبکہ جے یو آئی ایک منظم جماعت ہے جو محلے کی سطح سے لے کر مرکز تک مضبوط تنظیم رکھتی ہے اور کسی ایک فرد کے گرد نہیں گھومتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ماضی میں جماعت کا ووٹ بینک کمزور رہا ہے، تاہم فرخ کھوکھر کی شمولیت سے جے یو آئی کو سیاسی تقویت ملے گی، کیونکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں اور وہ باقاعدگی سے پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں، جبکہ خود ہمارے ساتھ تو کبھی کبھار ایک آدھ نماز رہ بھی جاتی ہے۔
