ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی کے بیچ زور دیا ہے کہ تہران جنگ شروع نہیں کرے گا اور وہ مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس بار واضح اور مضبوط ضمانتیں حاصل کی جائیں کہ دورانِ مذاکرات ایران پر **کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ایران کو یقین دلایا جائے کہ مذاکرات کے دوران حالات کو کشیدگی میں تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی عارف نے خبردار کیا کہ جنگ کی صورتِ حال کے لیے ایران کو بھی تیار رہنا چاہیے، اور اگر جنگ چھڑ گئی تو اس کا خاتمہ دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا،جس سے انہوں نے واشنگٹن کی جانب جاری عسکری دھمکیوں کی نشاندہی کی۔ افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی منظرنامے پر اس کشیدگی کے اثرات کے پیشِ نظر عارف کا موقف انتہائی محتاط اور دفاعی حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔
عارف نے واضح کیا کہ ایران کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، مگر اگر اس پر فوجی کارروائی مسلط کی گئی تو وہ پوری قوت سے اپنے دفاع میں ردِ عمل دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں شمولیت کے لیے اس بار ضمانتوں کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ ایران کو یقین ہو کہ واشنگٹن مذاکرات کو فوجی دباؤ یا دھمکی کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری معاہدہ کرنے کا اختیار موجود ہے، اور تمام آپشنز میز پر ہیں، جس کے لیے امریکی وزارتِ دفاع بھی تیار ہے۔ ہیگستھ نے اعلان کیا کہ امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
اسی اثنا میں مغربی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران میں تشدد کے ذمہ دار حکام اور رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ان آپشنز میں ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل تنصیبات اور جوہری پروگرام کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، جبکہ صدر ٹرمپ جانتے ہیں کہ یہ کارروائیاں دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
امریکہ نے خطے میں سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے تحت ابراہام لنکن کی قیادت میں ایک بحری فورس کو تعینات کر رکھا ہے، جسے صدر ٹرمپ نے تیار اور قابل عمل قرار دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایران پر حملہ کر سکے۔ یہ تعیناتی اس سخت کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی ہے جس میں امکانِ فوجی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے بھی اعلان کیا ہے کہ سپاہ پاسدارانِ انقلاب 1 اور 2 فروری کو آبنائے ہرمز میں مشقیں کرے گا، جس سے خطے میں ممکنہ کشیدگی اور دفاعی حکمتِ عملی کے اظہار کو تقویت ملتی ہے۔
ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے مناسب ضمانتیں ضروری ہیں تاکہ کوئی فوجی خطرہ یا دھمکی مذاکراتی عمل کو متاثر نہ کرے، اور ایک مستحکم، جامع اور دیرپا حل تلاش کیا جائےورنہ کشیدگی کی صورتِ حال مزید بڑھ سکتی ہے۔
