پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ کی شام ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جب ماں سعدیہ (24 سال) اور اس کی کم سن بیٹی ردا (10 ماہ) ایک کھلے مین ہول میں گر گئیں، جس کے نتیجے میں دونوں جان کی بازی ہار گئیں۔ حادثے کے وقت متاثرہ خاندان، جو لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم تھا، رکشہ میں سوار تھے اور اندھیرے کی وجہ سے کھلے مین ہول میں گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ ریسکیو حکام نے فوری طور پر کارروائی کی اور متاثرہ افراد کی لاشیں برآمد کیں، جس میں ماں کی لاش کل اور بچی کی لاش جمعرات کو تقریباً اٹھارہ گھنٹے بعد سیوریج لائن سے نکالی گئی۔
حادثے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی، جس میں تمام متعلقہ حکام کو واقعے، جاری تعمیراتی کام، کھلے مین ہول اور حفاظتی اقدامات میں غفلت پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی مجموعی نااہلی اور غفلت ہے اور معصوم جانوں کا ضیاع سنگین جرم ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پراجیکٹ منیجر، ڈائریکٹر اور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کیا جائے، جبکہ دیگر ذمہ داران کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندان کے حق میں ایک کروڑ روپے ہرجانے کی رقم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا جو ٹھیکیدار سے وصول کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورے پنجاب میں ترقیاتی منصوبے عوام کو فائدہ دینے کے لیے ہوتے ہیں، جان لینے کے لیے نہیں، اور آئندہ کسی بھی منصوبے میں عوام کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سانحے کے بعد ڈی جی لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا، جن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔ ساتھ ہی کنٹریکٹر، نجی کمپنی اور نیسپاک کی ٹیم کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے، اور ان کے کردار کی مکمل انکوائری کا حکم دیا گیا۔
حادثے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔ کچھ صارفین نے ابتدائی طور پر وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے جعلی بیانات پر اعتراض کیا، تاہم بعد میں واقعے کی تصدیق سامنے آئی۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے ذمہ دار افسران کی گرفتاری اور متاثرہ خاندان کے ساتھ انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ لاہور جیسے بڑے شہر میں انتظامیہ کی سنگین غفلت اور حفاظتی اقدامات کی ناکامی کو اجاگر کرتا ہے، اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں کسی رعایت کے بغیر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
