واشنگٹن میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے گزشتہ سےپیوستہ روز وائٹ ہاؤس میں امریکی قیادت کےساتھ ایک اعلیٰ سطحی دفاعی اورسیکیورٹی مذاکراتی اجلاس کیا،جس میں دو دوست ممالک کے مابین تزویراتی شراکت داری، دفاعی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے موضوعات پر گہرائی سے تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے نامزد مشیر مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسیٹو وٹکوف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈان کین کے علاوہ اعلیٰ امریکی سیکیورٹی اہلکار بھی شریک تھے، جس سے اس اجلاس کی اہمیت کی عکاسی ہوئی۔
سعودی وفد میں امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلے، اسسٹنٹ وزیر دفاع برائے انتظامی امور خالد بن حسین البیاری اور وزیر دفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس امور ہشام بن عبدالعزیز بن سیف بھی شامل تھے، جنہوں نے مشترکہ سلامتی، عسکری رابطوں، اسٹریٹجک شراکت داری کے مستقبل، جدید فوجی تربیت اور خطرات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تفصیلی گفتگو کی۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق، اجلاس میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان پائے جانے والے دیرینہ دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے، مشترکہ فوجی مشقوں اور معلوماتی تبادلے کو بڑھانے پر زور دیا گیا، جبکہ عراق، شام، یمن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں جاری سیکیورٹی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں فریقین نے علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے، دہشت گردی، بیلسٹک میزائل حملوں اور دیگر خطرات کے خلاف ایک مربوط حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی و سفارتی تناؤ کے دوران سامنے آئی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز کے استعمال کے اشارے دیے ہیں اور خطے میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کی گئی ہے۔ سعودی حکام نے اس موقع پر اس امر پر بھی توجہ مبذول کروائی کہ مضبوط علاقائی شراکت داری امن کے تسلسل، دفاعی تیاریوں اور سیاسی حل کے لیے ضروری ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف نے دوطرفہ تعاون بڑھانے، مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام اور عالمی سیکیورٹی کے چیلنجز کے خلاف مشترکہ ردعمل پر اتفاق کیا، جس میں سعودی عرب اور امریکہ نے اپنے علاقائی مفادات، دفاعی حکمت عملیوں اور تعاون کی ضروریات کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار رکھنے کا عزم کیا
