ایک معروف امریکی میگزین نے پاکستان اور ترکی کے مشترکہ تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے کو عالمی دفاعی مارکیٹ میں سستی، موثر اور لڑائی آزمودہ صلاحیتوں کا حامل قرار دیتے ہوئے سراہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طیارہ نہ صرف قیمت میں مغربی ماڈلز سے کم ہے بلکہ اپنی جنگی افادیت سے میدان جنگ میں شاندار کارکردگی بھی ثابت کر چکا ہے۔
میدان جنگ میں کارکردگی نے بدلی دفاعی مارکیٹ کی سمت رپورٹ میں جے ایف-17 کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ہلکا، کم لاگت، سنگل انجن، ملٹی رول لڑاکا طیارہ کسی ایئر شو کی نمائش تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی محاذ پر اپنی کارکردگی ثابت کر چکا ہے۔
میگزین کا کہنا تھا کہ جے ایف-17 نے جدید روسی اور مغربی طیاروں کو مار گرایا ہے، جس نے دفاعی مارکیٹ میں روایتی مغربی کمپنیوں کو چیلنج کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی دفاعی خریداری میں درمیانی درجے کے طیاروں کی مانگ میں مغربی کمپنیاں پیچھے رہ گئی ہیں اور اس خلا کو ترکی، پاکستان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک پرکرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جے ایف-17 تھنڈر ان ممالک کے لیے کم قیمت، جنگ آزمودہ اور موثرح دفاعی حل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر نے پاک بھارت تنازعات میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، جہاں اس نے متعدد جدید جنگی طیاروں کے خلاف موثر کارکردگی دکھائی۔
اسی کامیابی اور عملی پیش رفت نے عالمی دفاعی حلقوں میں اس کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے، اور مختلف ممالک کی فضائی افواج اس طیارے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔
دبئی ایئر شو 2025 میں جے ایف-17 تھنڈر بلاک-III نے خاص توجہ حاصل کی، جہاں ایک MOU پر دستخط ہوئے جس کے تحت ایک دوست ملک نے اس طیارے کے حصول کا آغاز کیا۔
میگزین کی رپورٹ میں جے ایف-17 تھنڈر کو قیمت میں تقریباً ایک تہائی سستا قرار دیا گیا، جبکہ اس کی لڑائی میں افادیت اعلیٰ درجے کی ثابت ہوئی ہےیہی خصوصیت اسے عالمی ساؤتھ کی فوجوں کے لیے پرکشش انتخاب بنا رہی ہے
