دبئی: متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک کمی کا شکار ہو گئیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں اور سرمایہ کاروں نے قرض اتارنے، نقدی حاصل کرنے اور جائیداد کی خریداری کے لیے اپنے زیورات اور قیمتی دھاتیں فروخت کرنا شروع کر دی ہیں۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد دبئی کے مشہور گولڈ سوک میں فروخت کنندگان کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جہاں لوگ زیورات، سونے کی سلاخیں اور چاندی فروخت کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتیں جب ریکارڈ سطح پر پہنچیں تو کئی شہریوں اور سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کا فیصلہ کیا، جبکہ قیمتوں میں اچانک کمی آنے کے بعد مزید افراد نے نقصان سے بچنے اور مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے قیمتی دھاتیں فروخت کر دیں۔
تجارتی ماہرین کے مطابق بعض شہری اپنے پرانے قرضے اتارنے، گھریلو اخراجات پورے کرنے اور دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے سونے کو نقد رقم میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث لوگ قلیل مدتی فائدہ حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دبئی گولڈ مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کے مطابق حالیہ دنوں میں فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سونے کی خریداری میں وقتی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتیں مستحکم ہوئیں تو آئندہ دنوں میں خرید و فروخت میں توازن واپس آ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ رجحان نہ صرف عام شہریوں بلکہ سرمایہ کاروں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جو عالمی معاشی حالات اور سونے کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ کے پیش نظر اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں۔
