9 مئی کے مقدمے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مبینہ طور پر ملوث ہونے سے متعلق تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں پنجاب فارنزک لیب اور نادرا کی رپورٹس نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ عدالتی کارروائی، پولیس کے مؤقف اور وزیراعلیٰ کی وضاحتوں کے بعد یہ کیس اب فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب فارنزک لیب سے موصول ہونے والی رپورٹ میں شواہد کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے منسلک قرار دیا گیا ہے، جبکہ نادرا سے حاصل ہونے والی تازہ رپورٹس میں بھی انہی کے حوالے سے ڈیٹا کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے مکمل اور تفصیلی رپورٹ 14 فروری تک پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر عدالت کی جانب سے باقاعدہ احکامات جاری کیے گئے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے تفتیش بھی کی جائے گی۔ اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ آیا خیبر پختونخوا پولیس نے خود سہیل آفریدی سے متعلق شواہد پنجاب فارنزک لیب بھجوائے یا یہ تمام کارروائی عدالتی احکامات کے تحت عمل میں آئی۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت دی کہ خیبر پختونخوا پولیس نے ازخود کوئی مواد فارنزک لیب نہیں بھجوایا۔ ان کے مطابق عدالت نے ایک سیل بند لفافہ، جس میں یو ایس بی موجود تھی، تفتیشی افسر کے حوالے کیا اور واضح حکم دیا کہ اسے پنجاب فارنزک لیب بھجوایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نہ تو ان کے وکیل کو یہ بتایا گیا کہ یو ایس بی میں کیا مواد موجود ہے اور نہ ہی تفتیشی افسر کو اس کے مندرجات سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے بقول وکیل کی جانب سے مواد دکھانے کے لیے احتجاج بھی کیا گیا، تاہم معزز جج نے مواد دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ وزیراعلیٰ نے اس اقدام کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فارنزک ماہرین کو صرف یہ رائے دینے کا حکم دیا کہ آیا ویڈیو میں موجود شخص سہیل آفریدی ہے یا نہیں۔
فارنزک ماہرین کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ویڈیو میں موجود شخص سہیل آفریدی ہی ہے، تاہم وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ان کا 9 مئی کے واقعات سے کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس حوالے سے اب تک پولیس نے ان سے کوئی باضابطہ تفتیش نہیں کی۔
دوسری جانب چیف کیپیٹل پولیس پشاور میاں سعید نے جنگ کو بتایا کہ پولیس 9 مئی کیس کی تفتیش پہلے ہی مکمل کر چکی تھی اور چالان عدالت میں جمع کرایا جا چکا تھا۔ ان کے مطابق عدالت میں سماعت کے دوران مخالف وکیل کی جانب سے کچھ شواہد جمع کرائے گئے، جس کے بعد عدالتی حکم پر یو ایس بی پولیس کے حوالے کی گئی۔
میاں سعید کے مطابق بعد ازاں عدالت نے واضح ہدایات جاری کیں کہ یو ایس بی کو پنجاب فارنزک لیب اور نادرا بھجوایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں اداروں کی رپورٹس عدالت میں جمع کرا دی گئی ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر مقدمے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اب آئندہ کارروائی عدالت کے اگلے حکم کے مطابق ہوگی۔
چیف کیپیٹل پولیس کے مطابق اگر عدالت کی جانب سے تفتیش کے احکامات جاری کیے گئے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس معاملے کا حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ویڈیو اور تصاویر کا پشاور میں 9 مئی کے واقعات سے براہ راست کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں۔
یہ کیس نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی طور پر بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور آئندہ عدالتی فیصلے پر عوام، سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
