سائنسدانوں نے زمین کی سطح کے نیچے انتہائی گہرائی میں چھپے ایک حیران کن راز کا سراغ لگا لیا ہے، جو ہمارے سیارے کی ساخت اور اس کے مقناطیسی میدان کے بارے میں موجود کئی سوالات کے جواب فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زمین کے اندرونی حصوں تک رسائی حاصل کرنا خلا میں سفر سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہے، جس کے باعث اب تک زمین کی گہرائی میں موجود بیشتر راز انسان کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں۔
حیران کن طور پر انسان اب تک خلا میں تقریباً 25 ارب کلو میٹر دور تک خلائی جہاز بھیج چکا ہے، مگر زمین کی سطح سے نیچے صرف 12 کلومیٹر تک ہی کھدائی ممکن ہو سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کے اندرونی حصوں سے متعلق معلومات محدود ہیں اور سائنسدان بالواسطہ شواہد اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی اس دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
معروف سائنسی جریدے نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق میں ماہرین نے ایسے شواہد پیش کیے ہیں جو زمین کے اندر دو انتہائی بڑے اور غیر معمولی طور پر گرم چٹانوں جیسے اسٹرکچرز کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ اسٹرکچرز زمین کی اندرونی ساخت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زمین کی بیرونی تہہ سیال دھاتوں پر مشتمل ہے، جبکہ اندرونی تہہ ٹھوس دھاتوں سے بنی ہوئی ہے، جس کا حجم تقریباً چاند کے 70 فیصد کے برابر ہے۔ یہ اندرونی تہہ زمین کی سطح سے تقریباً 4800 کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے اور اسے زمین کے مقناطیسی نظام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ دریافت ہونے والے یہ دو عظیم چٹانی اسٹرکچرز افریقا اور بحرالکاہل کے نیچے تقریباً 2900 کلومیٹر کی گہرائی میں موجود ہیں۔ یہ انتہائی گرم اور ٹھوس چٹانیں زمین کے مقناطیسی میدان کو کروڑوں بلکہ اربوں برس سے مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو زمین پر زندگی کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
تحقیق میں کمپیوٹر ماڈلنگ کا سہارا لیتے ہوئے قدیم مقناطیسی میدانوں کی تشکیل کی گئی، کیونکہ زمین کی اس گہرائی میں جا کر براہ راست مشاہدہ کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ محققین نے palaeomagnetic ڈیٹا کو جدید کمپیوٹر سمولیشنز کے ساتھ یکجا کر کے زمین کے مقناطیسی میدان کے ان اہم فیچرز کو دوبارہ تشکیل دیا، جو گزشتہ 26 کروڑ سال سے زائد عرصے تک زمین کو متاثر کرتے رہے ہیں۔
نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ زمین کی اوپری اور نچلی تہوں کے درمیان سرحد کا درجہ حرارت ہر جگہ یکساں نہیں، بلکہ اس میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر ان براعظموں کے حجم کے برابر چٹانی اسٹرکچرز کے نیچے انتہائی زیادہ گرم خطے موجود ہیں، جو زمین کے اندرونی حرکیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
تحقیق میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ زمین کے مقناطیسی میدان کے کچھ اجزا کروڑوں برسوں سے غیر معمولی طور پر مستحکم ہیں، جبکہ دیگر پہلو وقت کے ساتھ ساتھ ڈرامائی تبدیلیوں سے گزر چکے ہیں۔ یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زمین کے اندرونی حصوں میں درجہ حرارت اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں عدم توازن موجود ہے۔
محققین کے مطابق ان نتائج نے نہ صرف قدیم مقناطیسی میدان کو سمجھنے میں مدد دی ہے بلکہ زمین کی گہرائی میں موجود مستحکم خصوصیات کے ارتقا اور طویل المدتی تبدیلیوں پر بھی نئی روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت زمین کی اندرونی دنیا کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل میں زلزلوں، آتش فشانی سرگرمیوں اور سیاروی ارتقا سے متعلق تحقیق میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
