انڈونیشیا میں دنیا کا سب سے لمبا جنگلی اژدھا دریافت ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کی تصدیق گنیز ورلڈ ریکارڈز نے بھی کردی ہے۔ یہ غیر معمولی اور حیرت انگیز اژدھا انڈونیشیا کے علاقے ماروس میں پایا گیا، جس نے جنگلی حیات کے ماہرین اور دنیا بھر کے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق شواہد کی مکمل جانچ اور تصدیق کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ اس جنگلی اژدھے کی لمبائی 23 فٹ اور 8 انچ ہے، جو اب تک ریکارڈ کیے گئے تمام جنگلی سانپوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس دریافت کو جنگلی حیات کی دنیا میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اژدھا اس وقت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کی نگرانی میں ہے، جہاں اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ اس کی نگہداشت جنگلی حیات کے ماہر Diaz Nugraha اور معروف نیچرل ہسٹری فوٹو گرافر Radu Frentiu کر رہے ہیں۔
ان دونوں ماہرین نے بتایا کہ علاقے میں غیر معمولی طور پر بڑے اژدھے کی افواہیں کافی عرصے سے گردش کر رہی تھیں، جنہیں سنجیدگی سے لیتے ہوئے انہوں نے باقاعدہ تلاش شروع کی۔ کئی دنوں کی کوششوں کے بعد بالآخر انہیں یہ دیوہیکل اژدھا ملا، جسے دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گئے۔
ماہرین نے اس اژدھے کو Ibu Baron کا نام دیا ہے، جو اب عالمی سطح پر شہرت حاصل کر چکا ہے۔ ان کے مطابق عام طور پر ایک بالغ اژدھے کی لمبائی 9 سے 19 فٹ کے درمیان ہوتی ہے، مگر Ibu Baron نے اس عمومی اندازے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اژدھے اپنی طاقت اور غیر معمولی شکار کرنے کی صلاحیت کے باعث جانے جاتے ہیں۔ یہ عموماً چھوٹے جانوروں کو غذا بناتے ہیں، تاہم موقع ملنے پر بڑے جانوروں جیسے ہرن اور حتیٰ کہ مگرمچھوں کو بھی پورا نگلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے جبڑے اس قدر لچکدار ہوتے ہیں کہ وہ اپنے شکار کو آسانی سے نگل سکتے ہیں۔
اگرچہ اژدھوں کی جانب سے انسانوں پر حملے کے واقعات نہایت کم ہوتے ہیں، تاہم دنیا کے مختلف حصوں سے کبھی کبھار ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سانپ عموماً انسانوں سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق اس ریکارڈ ساز اژدھے کی دریافت نہ صرف قدرت کی حیرت انگیز تخلیقات کی یاد دہانی ہے بلکہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے، تاکہ ایسی نایاب مخلوقات آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں۔
