سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ فیصلے، جو یکطرفہ خودمختاری نافذ کرنے، آبادکاری کے منصوبے وسعت دینے اور نئے انتظامی و قانونی ڈھانچے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، غیر قانونی ہیں اور اس خطے کے سیاسی اور جغرافیائی توازن کو بدلنے کی کوشش کے مترادف ہیں۔
اس بیان کے مطابق یہ اقدامات دراصل فلسطینی زمینوں کی غیر قانونی الحاق کی کوشش اور فلسطینی کمیونٹیز کو زبردستی بے دخل کرنے کی سازش کے مترادف ہیں، جو ان کے حقوق اور وقار کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختار اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی مسلسل توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ اقدامات خطے میں تشدد اور غیر استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور یہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی یہ پالیسیز خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے راستے کو مسدود کر رہی ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر اسرائیل کی کوششوں کو مسترد کیا جو مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کو مضبوط کرنے اور نئے قانونی و انتظامی ڈھانچے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ تمام اقدامات نہ صرف باطل ہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، خاص طور پر قرارداد 2334، جو 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی آبادیاتی تشکیل، حیثیت اور کردار کو تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔
وزرائے خارجہ نے 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کی رائے کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجودگی اور پالیسیز غیر قانونی ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ اسرائیلی قبضہ ختم ہونا چاہیے اور مقبوضہ فلسطینی زمینوں کی الحاق کو کسی قانونی حیثیت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی خطرناک چڑھائی روک دے اور اپنے حکام کے اشتعال انگیز بیانات بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے جائز حق خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی تکمیل کے بغیر خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دو ریاستی حل، بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق، ہی فلسطینی اور اسرائیلی عوام کے لیے پائیدار امن اور استحکام کی واحد ضمانت ہے۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات فلسطینی عوام کے حق خودمختاری، آزادی اور ایک خودمختار ریاست کے قیام کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہونی چاہیے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ یہ اقدامات نہ صرف فلسطینی حقوق پر حملہ ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی یکطرفہ کارروائیاں سیاسی منظرنامے کو بدلنے کی کوشش ہیں اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔ یہ پالیسیاں بین الاقوامی قانونی اصولوں اور عرب امن منصوبے کے خلاف ہیں۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات تنازعہ کو حل نہیں کرتے بلکہ خطے میں اشتعال، نفرت اور مزید کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی تکمیل کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو غیر قانونی اقدامات سے روکے، فلسطینی عوام کی حفاظت کرے، اور ان کے حقوق کی پاسداری کرے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر پائیدار امن اور استحکام حاصل کرنا ضروری ہے۔
آخر میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی کی متحدہ پوزیشن واضح ہے: اسرائیل کی غیر قانونی پالیسیوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی یکطرفہ کارروائیوں کو روکے، فلسطینی عوام کے حقوق کو یقینی بنائے، اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو ممکن بنائے۔ صرف قانون، سفارتکاری اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے ہی خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی ممکن ہے۔
