سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام قراردادیں اکثریتی رائے سے مسترد کر دی گئیں، جس کے بعد ایوان میں سیاسی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔
ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار نے ایک قراردادکےذریعے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے بھرمیں شراب کی خریدوفروخت پرمکمل پابندی عائدکی جائے اورشراب خانوں کےجاری کردہ تمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرقانون و داخلہ سندھ ضیا لنجارنے اس کی مخالفت کی اورمؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ متاثرہوگا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج ان کے دوست کچھ زیادہ جذباتی دکھائی دے رہے ہیں، جس کے بعد ایوان نے اکثریتی ووٹ سے قرارداد کو مسترد کر دیا۔
اسی اجلاس میں ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین خان کی جانب سے پیش کی گئی دو دیگر قراردادیں بھی مسترد کر دی گئیں۔ پہلی قرارداد میں جنسی زیادتی اور بچوں کی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے نصاب میں لائف بیسڈ اسکل لرننگ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ دوسری قرارداد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی کے قیام سے متعلق تھی۔
حکومتی ارکان کی مخالفت کے باعث دونوں قراردادیں منظور نہ ہو سکیں۔ اپوزیشن ارکان نے قراردادوں کی مستردگی پراپوزیشن نے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ متعلقہ معاملات پر پہلے سے قانون سازی اور اقدامات موجود ہیں۔
