ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی آج منگل کے روز سلطنت عمان پہنچ گئے ہیں۔ عمان اس وقت تہران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق لاریجانی کا دورہ اس سلسلے میں اہم ہے کیونکہ وہ گذشتہ ہفتے مسقط میں امریکی حکام کے ساتھ ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے پہلے دور پر ایران کا موقف ساتھ لے کر گئے ہیں، جس کا مقصد ممکنہ امریکی حملے کو روکنا اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کے مطابق لاریجانی عمان کے سلطان ہیثم بن طارق اور وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور مشترکہ اقتصادی تعاون کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گذشتہ روز آرمینیا کے دورے کے دوران کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ریڈ لائنز (حدود) کا حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ وینس نے تہران کو مشورہ دیا کہ وہ "زیادہ ذہانت” کا مظاہرہ کرے۔ یریوان میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ صدر مذاکرات میں اپنی حدود خفیہ رکھتے ہیں اور کسی صورت کا اعلان نہیں کرتے، تاہم مذاکراتی عمل میں تعمیری معاہدے کی پوری کوشش کی گئی۔
اس سے قبل پیر کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قومی دن کی تقریب میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کا نیا دور "اس معاملے کے منصفانہ اور متوازن حل کے لیے موزوں موقع ہے”۔ انہوں نے ایران کے یورینیم افزودگی کے حق اور اس پر عائد "ظالمانہ پابندیوں” کے خاتمے پر زور دیا، اور امید ظاہر کی کہ اگر دونوں فریق اپنے وعدوں پر قائم رہیں تو مذاکرات سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی اور امریکی فریقوں نے گذشتہ جمعے کو تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ یہ مذاکرات گذشتہ جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے بعد پہلے اجلاس ہیں، جس میں امریکی افواج نے بھی حصہ لیا تھا۔ دونوں ممالک نے پہلے دور کو مثبت قرار دیا ہے اور آئندہ چند روز میں دوسرے اجلاس کے انعقاد کے اشارے دیے گئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ ایٹمی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی امید بڑھ گئی ہے۔
