ریاض: سعودی عرب کی کابینہ کا اجلاس شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں مملکت اور شام کے درمیان دوطرفہ تعاون کی کوششوں کو سراہا گیا۔ اجلاس میں دمشق کے حالیہ دورے کا ذکر کیا گیا، جس کا مقصد ہوا بازی، مواصلات، پانی، صنعت اور تعلیم کے شعبوں میں تزویراتی منصوبوں کا آغاز کرنا ہے تاکہ شام کے بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کو بہتر بنایا جا سکے۔
کابینہ نے علاقائی صورتحال پر بھی غور کیا اور خطے کے امن و استحکام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مملکت کے رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس میں غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری، اس کی دفعات پر عمل درآمد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سیاسی افق کی طرف بڑھنے کے مطالبے کو دہرایا گیا۔
سعودی کابینہ نے "داعش کی شکست کے لیے عالمی اتحاد” کے اجلاس کے نتائج کی حمایت کی، جس کی میزبانی سعودی عرب نے کی تھی، اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو، نیز ترک صدر رجب طیب اردوان اور جرمن چانسلر فرئیڈرش میرٹز کے سعودی عرب دورے کے دوران ہونے والے مذاکرات کے مواد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ نے ان دوروں کے دوران ترکیہ اور جرمنی کے ساتھ ہونے والے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کو سراہا، جو مشترکہ مفادات اور ترقیاتی ترجیحات کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔
معاشی محاذ پر کابینہ نے "العلا کانفرنس 2026” کے پانچویں ایڈیشن کی تعریف کی، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ مزید برآں سعودی عرب کی 2027-2028 کے لیے "انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنل آڈیٹرز” کی صدارت حاصل کرنے کو عالمی تنظیموں کے ساتھ تعاون اور مملکت کی قیادت کا اعتراف قرار دیا گیا۔
کابینہ نے سعودی عرب اور قطر کے درمیان تیز رفتار الیکٹرک ٹرین لنک کے معاہدے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ایسبسٹوس نامی مادے پر پابندی کی نگرانی کے لیے مستقل کمیٹی کی تشکیل اور "شہزادہ محمد بن سلمان عالمی مرکز برائے عربی خطاطی” کے تنظیمی ڈھانچے کی بھی منظوری دی گئی، جو ثقافتی اور صنعتی ترقی دونوں میں اہم اقدامات ہیں۔
