پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ انجیکشن لگائے جانے کے باوجود عمران خان کی متاثرہ آنکھ میں “10 فیصد بھی بہتری نہیں آئی”، جس پر انہوں نے فوری طبی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مریم ریاض وٹو کا کہنا تھا کہ آج ان کی فیملی کی بشریٰ بی بی سے ملاقات ہوئی، جبکہ اسی روز بشریٰ بی بی کی عمران خان سے بھی ملاقات کرائی گئی۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مریم ریاض وٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کے مطابق عمران خان کی آنکھ کے علاج کے لیے انجیکشن تو لگایا گیا، تاہم اس کے باوجود خاطر خواہ بہتری سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر عمران خان کو فوری طور پر اپنے ذاتی معالجین تک رسائی دی جانی چاہیے تاکہ مکمل اور مناسب طبی معائنہ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت سے اپیل کی کہ اس معاملے کو عدالتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے اٹھایا جائے، کیونکہ ان کے بقول عمران خان کو فوری اور معیاری طبی سہولیات کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور ان کی فیملی کی آج ملاقات کرائی گئی، جس میں ان کی بیٹی اور بھابی بھی شامل تھیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔ بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد فیملی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔
جیل ذرائع نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات بھی کانفرنس روم میں کرائی گئی جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔
تاحال حکام کی جانب سے عمران خان کی طبی صورتحال سے متعلق کوئی باضابطہ میڈیکل رپورٹ جاری نہیں کی گئی، تاہم اس معاملے پر سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں بحث تیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
