اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کے اجلاس میں اس وقت ایک دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب تھرپارکر کے کمیونٹی ایکشن پلان پر بریفنگ کے دوران "CAMELL” پراجیکٹ کو "Camel” یعنی اونٹ سمجھ لیا گیا اور تقریباً 15 منٹ تک اسی تناظر میں بحث جاری رہی۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی مسرور احسن کر رہے تھے۔ کمیٹی کے سامنے "Community Action Plan for Management of Sustainable Ecosystem, Livelihoods and Livelihood (CAMELL)” پراجیکٹ پیش کیا گیا۔ تاہم مخفف (CAMELL) کو اونٹ سے منسوب کر کے اس پر گفتگو کا آغاز کردیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی مسرور احسن نے سوال اٹھایا کہ تھرپارکر میں اونٹوں کے تحفظ اور ان کی افزائش کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور آدھی ادھوری معلومات کے ساتھ اجلاس میں آجاتی ہے۔
اس دوران سینیٹر دنیش کمار نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی کیا تفصیلات بیان کریں گے، انہیں تو "کیمل” کے اسپیلنگ بھی درست طور پر معلوم نہیں۔ وزیر مملکت ملک رشید نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اونٹوں کی افزائش کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات پیش کی جائیں گی۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے اس موقع پر 18ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وفاق کے پاس اختیارات موجود ہیں یا نہیں۔
بعد ازاں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے ممبر نے وضاحت کی کہ زیر بحث "CAMELL” دراصل ایک منصوبے کا مخفف ہے اور اس کا تعلق اونٹوں سے نہیں بلکہ تھرپارکر میں کمیونٹی ایکشن پلان اور پائیدار ایکوسسٹم کے انتظام سے ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ "کیمل تو ایک ہی ہوتا ہے، آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟” جس پر پی اے آر سی کے نمائندے نے واضح کیا کہ یہ "Community Action Plan” کا مخفف ہے، نہ کہ جانور۔
تقریباً 15 منٹ تک جاری رہنے والی اس بحث کے بعد جب اصل صورتحال واضح ہوئی تو کمیٹی ارکان کی ہنسی چھوٹ گئی اور اجلاس کا ماحول خوشگوار ہو گیا۔
پارلیمانی حلقوں میں اس واقعے کو بیوروکریٹک اصطلاحات اور مخففات کے پیچیدہ استعمال کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں اصطلاحات کو زیادہ واضح اور سادہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔
