راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی طبی صورتحال قابو میں ہے اور وہ ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی زیر علاج ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سابق آرمی چیف کو پیش آنے والے حادثے کے بعد فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا اور ضروری علاج شروع کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اس وقت آئی سی یو میں زیر علاج ہیں، تاہم ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی صحت کی نگرانی کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے اپنے گھر کے واش روم میں اچانک گر گئے تھے۔ گرنے کے باعث ان کے جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں جبکہ سر پر بھی زخم آنے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ غیر متوقع طور پر پیش آیا، تاہم فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی ماہرین کی جانب سے مکمل تشخیص کے بعد علاج کا سلسلہ جاری ہے۔آئی ایس پی آر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دی جائے اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کیا جائے۔
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2016 میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے پاک فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ بعد ازاں دسمبر 2019 میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے انہیں تین سال کی توسیع دی گئی۔ ان کے دور میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، پاک بھارت کشیدگی، افغانستان کی بدلتی صورتحال اور داخلی سیکیورٹی جیسے اہم معاملات نمایاں رہے۔
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہوئے، جس کے بعد جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھالی۔ جنرل عاصم منیر اس وقت چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
سابق آرمی چیف کی صحت سے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ان کی جلد صحت یابی کے لیےنیک تمناؤں کا اظہار کیا جارہا ہے۔
