ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر سے منسلک آئینی اصلاحات پر قومی ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ ووٹنگ جمعرات کو صبح 7:30 بجے شروع ہوئی اور دن کے آغاز میں کچھ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جس سے عوام کے انتخابی جوش و خروش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کے کئی پولنگ مراکز پر ووٹنگ زیادہ تر پُرامن رہی اور دوپہر 2 بجے تک ووٹنگ کی شرح 41 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ شیرپور-3 کی نشست پر ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ منسوخ کی گئی، جبکہ 300 میں سے 299 حلقوں میں رائے دہی جاری رہی۔
تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ اہل ووٹرز نے ملک کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔ یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کی بحالی کے لیے اہم مرحلہ سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی حکومت ختم ہوئی تھی۔ انتخابات میں بنیادی مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں اتحاد اور جماعتِ اسلامی کے قیادت میں قائم 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان ہے، جبکہ نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) بھی جماعتِ اسلامی کے اتحادیوں میں شامل ہے۔
بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات کے دوران مثبت رویہ اپنایا۔ سابق امریکی رکن کانگریس اور آئی آر آئی کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ ڈیوڈ ڈریئر نے بنگلہ دیش کے قومی انتخابات کو ‘آزاد، منصفانہ اور پُرجوش’ قرار دیا اور کہا کہ عوام میں جوش و خروش اور منظم ووٹنگ کا ماحول نمایاں رہا۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ملک کے مختلف حصوں میں مبینہ پرتشدد واقعات اور بے ضابطگیوں کا الزام بھی عائد کیا، تاہم انہوں نے فوجی افواج کی ذمہ داری اور شفافیت پر اعتماد ظاہر کیا۔
خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد نے اس بار ووٹنگ میں حصہ لیا، جس سے انتخابی ماحول مزید متحرک اور جامع رہا۔ دارالحکومت کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی تعداد دن کے آغاز کے بعد بڑھتی گئی، اور کئی مراکز پر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وقار الزمان نے بھی عوام پر زور دیا کہ وہ خوف کے بغیر ووٹ ڈالیں اور انتخابات کو پُرامن انداز میں جاری رکھیں۔
بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات ایک تاریخی موڑ پر ہو رہے ہیں، کیونکہ شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد نئی سیاسی قوتیں ابھری ہیں۔ انتخابی میدان میں بی این پی معاشی بحالی، روزگار، شفاف حکمرانی اور نوجوانوں کے لیے مواقع پر زور دے رہی ہے، جماعتِ اسلامی معاشرتی اقدار اور اخلاقی بنگلہ دیش کی بات کر رہی ہے، جبکہ نیشنل سٹیزنز پارٹی جمہوری اصلاحات، شہری آزادیوں اور آئینی توازن کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہے۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جن میں ایک لاکھ تین ہزار سے زائد فوجی اہلکار، 1 لاکھ 87 ہزار پولیس اہلکار، اور 9,349 ریپڈ ایکشن بٹالین کے اہلکار شامل تھے۔ ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے، جن میں سے 21,506 حساس قرار دئیے گئے۔ یورپی یونین سمیت بین الاقوامی مبصرین نے پولنگ کا جائزہ لیا اور اس کو بنگلہ دیش کی جمہوریت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
چند جگہوں پر چھوٹے واقعات بھی پیش آئے، جیسے گوپال گنج کے پولنگ اسٹیشن پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر کنٹرول حاصل کیا۔ عبوری رہنما محمد یونس نے انتخابات کو تاریخی اور ملک کے لیے ایک عظیم دن قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن طریقے سے ووٹ ڈالیں۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے بھی ووٹنگ کی شفافیت اور عوام کی بھرپور شرکت پر اطمینان کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ غلط معلومات اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا چیلنج بن سکتا ہے، جس سے بچاؤ کے لیے مرکزی دھارے کے میڈیا کی ذمہ داری اہم ہے۔
یہ انتخابات نہ صرف پارلیمانی نمائندگی بلکہ آئینی اصلاحات کے نفاذ کے لیے بھی فیصلہ کن ہیں اور ملک کے سیاسی مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔ نوجوان ووٹرز، خواتین اور شہری آزادیوں پر توجہ رکھنے والے ووٹرز نے بھرپور حصہ لیا، جس سے بنگلہ دیش میں جمہوری بحالی کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔
