بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات نے ملک کی سیاست کا رخ بدل دیا، جہاں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 299 میں سے 209 نشستیں جیت کر میدان مار لیا۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ملک بھر میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ جماعت اسلامی بنگلادیش 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ دوسری جانب نیشنل سٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرسکی۔
ابتدائی نتائج کے مطابق پارٹی کی قیادت کرنے والے طارق رحمان، جو سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں، ڈھاکا اور بوگرہ کی دونوں نشستوں سے کامیاب قرار پائے۔ انہوں نے کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں امن و امان کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے، خصوصاً خواتین جو ملک کی نصف آبادی پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو نمازِ جمعہ میں خصوصی دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی ریلی یا جشن سے گریز کرنے کی ہدایت دی تاکہ سیاسی ماحول میں استحکام برقرار رہے۔
ادھر ملک کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ عوام نے بھرپور شرکت کے ذریعے اپنے آئینی حق کا استعمال کیا اور جمہوری عمل کو مضبوط بنایا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ عام انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی منعقد کیا گیا جس میں اب تک کے نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ ریفرنڈم میں عوام کو “ہاں” یا “نہیں” کا انتخاب دیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کرنا ہے۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جولائی نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات کی تجاویز پیش کی گئی تھیں، جنہیں عوامی تائید ملنے کے بعد ملک میں ایک نئے سیاسی باب کے آغاز کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
بنگلادیش کے یہ انتخابات نہ صرف اقتدار کی منتقلی بلکہ آئینی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کے باعث جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے
