انڈیا کی وزارتِ دفاع نےگزشتہ روز 39 ارب ڈالر مالیت کےجدیددفاعی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دیدی،جس میں 114 مزید رفال لڑاکا طیاروں کی مجوزہ خریداری بھی شامل ہے۔خبر رساں ادارے اےایف پی کےمطابق یہ اہم فیصلہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے متوقع دورۂ انڈیا سے چند روز قبل کیا گیا ہے، جسے دفاعی تعاون کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
وزارتِ دفاع کے ایک ذریعے نے بتایا کہ اس منظوری کے تحت شامل رفال طیارے پہلے سے انڈین فضائیہ کے زیرِ استعمال درجنوں رافیل لڑاکا طیارہ کے علاوہ ہوں گے۔ تاہم سرکاری بیان میں طیاروں کی درست تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ وزارت کے مطابق یہ خریداری تنازعات کے تمام پہلوؤں میں فضائی برتری حاصل کرنے کی صلاحیت کو بڑھائے گی اور طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے ذریعے دفاعی قوت کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گی۔
یہ منظوری ڈیفنس اکیوزیشن کونسل کی جانب سے دی گئی، جس میں اعلیٰ فوجی افسران اور وزیرِ دفاع شامل ہوتے ہیں۔ کونسل کی منظوری ملک میں کسی بھی بڑے فوجی معاہدے کے لیے اہم ابتدائی مرحلہ تصور کی جاتی ہے۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مجوزہ ایم آر ایف اے (ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ) پروگرام کے تحت خریدے جانے والے طیاروں کی اکثریت انڈیا میں تیار کی جائے گی، جو حکومت کی ’میک اِن انڈیا‘ پالیسی کے عین مطابق ہے۔
نریندر مودی کی حکومت نے گذشتہ دہائی میں روس پر دفاعی انحصار کم کرنے کے لیے پالیسی اقدامات کیے ہیں۔ روایتی طور پر روس انڈیا کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں نئی دہلی نے امریکہ، فرانس اور اسرائیل سے دفاعی درآمدات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 2015 سے اب تک انڈیا تقریباً 8.7 ارب ڈالر مالیت کے 26 رفال طیارے خرید چکا ہے، جبکہ اپریل میں مزید 26 لڑاکا طیاروں کے لیے اربوں ڈالر کے نئے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق یہ حالیہ منظوری نہ صرف انڈین فضائیہ کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کرے گی بلکہ خطے میں دفاعی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
