اسلام آباد: سابق چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجوہ کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر فیملی ذرائع نے اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پھسل کر نہیں گرے تھے بلکہ ان کے دل کے برقی نظام میں اچانک خرابی پیدا ہوئی جس کے باعث دل بلاک ہوا اور وہ بے ہوش ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد اطلاعات حقائق کے منافی ہیں، اس لیے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں سے گریز کیا جائے اور ان کی طبی رازداری کا احترام کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ پیر کی شام 9 فروری کو جنرل (ر) باجوہ طبیعت ناساز محسوس کر رہے تھے، تاہم وہ معمول کے مطابق سیر اور ورزش کے لیے گئے۔ بعد ازاں رات کو انہیں متلی ہوئی، وہ واش روم گئے جہاں قے کے بعد اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے کانوں سے خون بھی نکلتا دیکھا گیا جس کے بعد انہیں تقریباً 15 منٹ کے اندر کمبائنڈ ملٹری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
فیملی ذرائع کے مطابق سابق آرمی چیف کی کھوپڑی میں تین باریک فریکچر آئے تاہم خوش قسمتی سے دماغ میں خون کے لوتھڑے نہیں بنے جو جان لیوا ثابت ہو سکتے تھے۔ انہیں فوری اور مناسب طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بھی ایک اپڈیٹ میں تصدیق کی تھی کہ فوج کے سابق سربراہ سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں۔ فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی رہائش گاہ پر گرنے سے زخمی ہوئے تھے، تاہم اب فیملی ذرائع نے دل کے عارضے کو بے ہوشی کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ اہل خانہ نے نیک تمناؤں اور دعاؤں کی درخواست کی ہے۔
