جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اس وقت دیکھنے میں آئی جب Bangladesh National Party (بی این پی) نے عام انتخابات میں واضح اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو دہائیوں بعد دوبارہ اقتدار سنبھالنے کی راہ ہموار کر لی۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے کم از کم 212 نشستیں حاصل کیں، جو اسے پارلیمان میں مضبوط برتری فراہم کرتی ہیں۔ دوسری جانب Jamaat-e-Islami اور اس کے اتحادیوں نے تقریباً 70 نشستیں جیتیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات حالیہ برسوں میں ملک کے سب سے زیادہ مسابقتی انتخابات تصور کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے طویل سیاسی بے چینی کے بعد ایک واضح سمت متعین کی ہے۔
یہ سیاسی تبدیلی ایک ایسے پس منظر میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیر اعظم Sheikh Hasina کو 2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ اس تحریک نے ملک کی سیاست میں ہلچل مچا دی تھی اور کئی ماہ تک احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کا سلسلہ جاری رہا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عبوری انتظام قائم کیا گیا جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات Muhammad Yunus نے سنبھالی۔ انہوں نے عبوری سربراہ کے طور پر ملک کو نئے انتخابات کی طرف لے جانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اب ایک منتخب حکومت وجود میں آئی ہے۔
بی این پی کی کامیابی کو ملک میں استحکام کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گزشتہ مہینوں کی بدامنی نے معیشت کو بھی متاثر کیا تھا۔ گارمنٹس کی صنعت، جس میں بنگلہ دیش عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے، سیاسی ہنگامہ آرائی سے متاثر ہوئی۔ کاروباری اور صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ واضح اکثریت رکھنے والی حکومت پالیسی سازی میں تسلسل لا سکتی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔
انتخابی نتائج سامنے آتے ہی پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے بنگلہ دیشی عوام اور نئی منتخب قیادت کو مبارکباد دی۔ وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے بی این پی کے قائد Tarique Rahman کو پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ وہ نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ تاریخ اور علاقائی تعاون پر مبنی ہیں، اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر Asif Ali Zardari نے بھی بی این پی کی فتح کو جمہوری عمل کی کامیابی قرار دیتے ہوئے بنگلہ دیش کے عوام کو پُرامن انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان جمہوری شراکت داری اور باہمی ترقی کے لیے اپنے تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتری آئی ہے، خاص طور پر 2024 کی سیاسی تبدیلیوں کے بعد دونوں ممالک نے سمندری تجارت کا آغاز کیا اور حکومت سے حکومت کی سطح پر تجارتی روابط میں اضافہ کیا۔
بی این پی نے اپنی کامیابی کے بعد محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کارکنان کو جشن منانے سے گریز کی ہدایت کی۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھاری اکثریت کے باوجود کوئی ریلی یا جلوس منعقد نہیں کیا جائے گا بلکہ ملک بھر میں دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔ اس فیصلے کو سیاسی بلوغت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے تاکہ انتخابی نتائج کے بعد کسی بھی قسم کی کشیدگی سے بچا جا سکے اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ طارق رحمان جلد وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔ وہ پارٹی کے بانی اور سابق صدر ضیاء الرحمان کے صاحبزادے ہیں اور تقریباً اٹھارہ برس بیرون ملک قیام کے بعد حال ہی میں وطن واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی اور انتخابی کامیابی کو پارٹی کی تنظیم نو اور عوامی رابطہ مہم کی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ ایک مضبوط پارلیمانی اکثریت نئی حکومت کو اصلاحات کے نفاذ، معیشت کی بحالی اور خارجہ پالیسی میں توازن قائم کرنے کے لیے وسیع مواقع فراہم کرے گی، تاہم عوامی توقعات پر پورا اترنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
جنوبی ایشیا کی 175 ملین آبادی پر مشتمل اس مسلم اکثریتی ملک میں استحکام نہ صرف اندرونی بلکہ علاقائی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی برادری اس پیش رفت کو اس لیے بھی اہم سمجھتی ہے کہ بنگلہ دیش کی معیشت عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی برآمدات میں۔ واضح اور شفاف انتخابی نتیجہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے فوری مبارکباد اور تعاون کی پیشکش کو مثبت سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیغام دیتا ہے کہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھ کر عملی تعاون کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی حکومت داخلی استحکام کو کس حد تک مضبوط کرتی ہے اور علاقائی شراکت داری کو کس سمت لے جاتی ہے، تاہم فی الحال بی این پی کی فیصلہ کن کامیابی کو بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
