کام کی جگہ پر مساوات اور مشترکہ والدین کی ذمہ داری کے تصور کو تقویت دینے والے ایک اہم فیصلے میں وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین از ہراسگی (FOSPAH) نے قرار دیا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد والد کو بھی قانونی طور پر پیٹرنٹی لیو کا حق حاصل ہے۔ اس فیصلے نے واضح کر دیا کہ بچوں کی دیکھ بھال صرف ماں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ والدین دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس حق سے انکار صنفی امتیاز کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ایک بینک افسر سید باسط علی کی جانب سے دائر کی گئی شکایت کے بعد سامنے آیا۔ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذیلی ادارے بینکنگ سروسز کارپوریشن (BSC) میں او جی ون کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد انہوں نے میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 کی دفعہ 4 کے تحت 30 دن کی پیٹرنٹی لیو کے لیے درخواست دی، تاہم ادارے کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے درخواست مسترد کر دی گئی کہ اسٹیٹ بینک کی موجودہ پالیسی میں ایسی کسی رخصت کی گنجائش موجود نہیں۔
درخواست مسترد ہونے پر سید باسط علی نے وفاقی محتسب کے دفتر سے رجوع کیا اور اپنی شکایت میں اسٹیٹ بینک کے گورنر، بینکنگ سروسز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، ہیڈ آف ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ (HRMD) اور چیف مینیجر کو فریق بنایا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی درخواست کو مسترد کرنا نہ صرف نافذ العمل قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ والدین کی مشترکہ ذمہ داری کے اصول کو بھی مجروح کرتا ہے۔
وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ پیٹرنٹی لیو سے انکار میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اپنے تحریری حکم میں انہوں نے ہدایت کی کہ متعلقہ افسر کو 30 دن کی مکمل تنخواہ کے ساتھ پیٹرنٹی لیو فراہم کی جائے۔ فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پارلیمان کی جانب سے دیا گیا قانونی حق کسی ادارے کی داخلی پالیسی سے محدود یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، محتسب نے اسٹیٹ بینک پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ اس میں سے چار لاکھ روپے شکایت کنندہ کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے جبکہ ایک لاکھ روپے 30 دن کے اندر قومی خزانے میں جمع کرانا ہوں گے۔ یہ جرمانہ نہ صرف متاثرہ ملازم کے ازالے کے لیے ہے بلکہ آئندہ ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے۔
فیصلے میں انفرادی ریلیف تک محدود رہنے کے بجائے ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی زور دیا گیا۔ محتسب نے ہدایت کی کہ بینکنگ سروسز کارپوریشن اپنی رخصت کی پالیسی میں فوری ترمیم کرے اور اسے میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 کے مطابق مکمل ہم آہنگ بنائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کسی ملازم کو اس قانونی حق کے حصول میں رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پیٹرنٹی لیو سے انکار صنفی بنیادوں پر ہراسگی کے مترادف ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ اس دقیانوسی سوچ کو تقویت دیتا ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری ہے۔ محتسب نے نشاندہی کی کہ آئین اور قانون دونوں مساوات اور منصفانہ سلوک کی ضمانت دیتے ہیں، اور کام کی جگہ پر ایسی پالیسیاں جو صنفی عدم توازن کو برقرار رکھیں، قابل قبول نہیں۔
فیصلے میں بچے کے مفاد کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی۔ محتسب کے مطابق بچے کی پیدائش کے ابتدائی دن نہایت اہم ہوتے ہیں، جن میں والد اور والدہ دونوں کی موجودگی اور تعاون ضروری ہے۔ والد کو اس مرحلے پر رخصت سے محروم کرنا نہ صرف خاندانی توازن کو متاثر کرتا ہے بلکہ بچے کے بہترین مفاد کے اصول سے بھی متصادم ہے۔
یہ مقدمہ میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 کے وسیع تر مقاصد کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس قانون کا بنیادی ہدف ایسے خاندانی دوست ماحول کو فروغ دینا ہے جہاں ملازمین پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور گھریلو فرائض کے درمیان توازن قائم کر سکیں۔ پیٹرنٹی لیو کو قانونی حیثیت دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ والد بھی بچے کی ابتدائی نگہداشت میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ دیگر سرکاری اور نجی اداروں کے لیے ایک نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب تنظیموں کو اپنی ہیومن ریسورس پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا تاکہ وہ قانون سے مطابقت رکھیں۔ بصورت دیگر انہیں بھی قانونی کارروائی، مالی جرمانوں اور ساکھ کو نقصان جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ فیصلہ وفاقی محتسب کے ادارے کے کردار کو بھی مزید مضبوط کرتا ہے۔ پیٹرنٹی لیو سے انکار کو صنفی ہراسگی کے دائرے میں شامل کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امتیاز صرف خواتین کے خلاف نہیں بلکہ مردوں کے خلاف بھی ہو سکتا ہے جب انہیں برابر حقوق سے محروم کیا جائے۔ اس وسیع تشریح نے کام کی جگہ پر مساوات کے تصور کو نئی جہت دی ہے۔
سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس فیصلے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین دونوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے سے خاندانی نظام مضبوط ہوتا ہے، خواتین پر بوجھ کم ہوتا ہے اور بچوں کی نشوونما پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات طویل المدتی بنیادوں پر ملازمین کے اطمینان اور کارکردگی میں بھی بہتری لا سکتے ہیں۔
بالآخر یہ فیصلہ صرف ایک ملازم کی کامیابی نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف کی توثیق ہے۔ اس نے یہ واضح کر دیا کہ قانونی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اداروں پر لازم ہے کہ وہ قانون کی روح اور متن دونوں کے مطابق عمل کریں۔ مشترکہ والدین کی ذمہ داری، صنفی مساوات اور بچے کے بہترین مفاد جیسے اصول اب محض نظریات نہیں بلکہ قانونی تقاضے بن چکے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے کے بعد ملک بھر کے ادارے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیں گے اور انہیں میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 سے ہم آہنگ بنائیں گے۔ یوں یہ فیصلہ کام کی جگہ پر انصاف، مساوات اور خاندانی اقدار کے فروغ کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
