وفاقی دارالحکومت میں قانونی محاذ پر ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دائر درخواستِ ضمانت پر باقاعدہ اعتراض عائد کر دیا ہے۔ رجسٹرار آفس کے مطابق مرکزی اپیل پر لگائے گئے اعتراضات قانون کے تحت مقررہ سات روزہ مدت میں دور نہیں کیے گئے، جس کے باعث اپیل تاحال اعتراض کے ساتھ موجود ہے۔
اعتراض میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک بنیادی اپیل پر رجسٹرار کے اعتراضات دور نہیں ہوتے، اس سے منسلک سزا معطلی کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں۔ رجسٹرار آفس نے سوال اٹھایا ہے کہ جب مرکزی اپیل ہی تکنیکی اعتراض کے باعث زیرِ التوا ہو تو اس کے ساتھ دائر سزا معطلی کی درخواست کس بنیاد پر آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق اعتراضات دور کرنے کی مقررہ مدت گزر چکی ہے، جس کے بعد اب درخواست گزار کو باقاعدہ قانونی کارروائی کے ذریعے معاملہ درست کرنا ہوگا۔ دوسری جانب دیگر مقدمات کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے ایڈیشنل رجسٹرار نور محمد مرزا نے کہا ہے کہ کیس جلد مقرر کرانے سے متعلق متفرق درخواستیں ہر جمعرات کو سماعت کے لیے مقرر کی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متفرق درخواستوں کی سماعت کے روز ہی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقرر ہوں گی، جس سے آئندہ دنوں میں قانونی کارروائی میں تیزی آنے کا امکان ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق رجسٹرار آفس کے اعتراضات تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں، تاہم انہیں بروقت دور نہ کیا جائے تو اپیل کی سماعت میں تاخیر یا پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ توشہ خانہ ٹو کیس اور 190 ملین پاؤنڈز کیس پہلے ہی ملکی سیاسی منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں، اور تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر قانونی و سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
