ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر پاکستان پیپلز پارٹی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی ترجمان شازیہ مری نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مہنگائی سے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست غریب، محنت کش اور متوسط طبقے کو متاثر کرے گا، کیونکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب رمضان پیکج کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ایندھن مہنگا کر کے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کیا جا رہا ہے، جو حکومتی پالیسیوں میں واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر کی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بے روزگاری اور معاشی بحران کے خاتمے پر فوری توجہ دے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو براہِ راست عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بنیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ آئندہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ میں مزید شدت لا سکتا ہے۔
