اسلام آباد میں ایک اہم قانونی اور سماجی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے بچے کی پیدائش پر پیٹرنٹی رخصت نہ دینے کے معاملے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ فیصلہ افسر سید باسط علی کی جانب سے دائر شکایت کے بعد سنایا گیا، جس میں انہوں نے پیدائش کے بعد والدین کی قانونی رخصت نہ دینے پر بینک کی پالیسی پر اعتراض کیا تھا۔
محتسب فوزیہ وقار کے مطابق اس فیصلے کے تحت جرمانے کی رقم میں سے 4 لاکھ روپے سید باسط علی کو ہرجانہ کے طور پر ادا کیے جائیں گے، جبکہ انہیں مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ میٹرنٹی اور پیٹرنٹی رخصت ایکٹ 2023 کے تحت جامع اور واضح پالیسی مرتب کرے تاکہ آئندہ کسی ملازم کو اس نوعیت کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
فوسپاہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پیٹرنٹی رخصت سے انکار صنفی بنیاد پر ہراسیت کے مترادف ہے، جبکہ میٹرنٹی رخصت دینے یا نہ دینے کا عمل صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔ محتسب نے کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور والدین کو بنیادی رخصت سے محروم رکھنے کا عمل بچوں کے مفاد اور والدین کی قانونی ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کیس میں اسٹیٹ بینک نے ابتدائی طور پر پالیسی موجود نہ ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے سید باسط علی کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم فوسپاہ نے واضح کر دیا کہ قانونی خلا کو بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملازمین کے بنیادی حقوق، خصوصاً والدین کے حقوق کو یقینی بنانا نہ صرف قانونی بلکہ سماجی ضروریات میں بھی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف اسٹیٹ بینک بلکہ تمام سرکاری اور نجی اداروں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، کیونکہ یہ پیٹرنٹی اور میٹرنٹی رخصت کے حوالے سے شفاف اور واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس فیصلے سے صنفی مساوات، بچوں کی دیکھ بھال اور والدین کے حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں مزدور اور ملازم حقوق کے حوالے سے قانونی شعور میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ فیصلہ مستقبل میں اداروں کے اندر والدین کے لیے رخصت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔
