اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو ہنسانے والے معروف بھارتی اداکار راجپال یادو کو نو کروڑ بھارتی روپے کے چیک باؤنس کیس میں بڑی قانونی پیش رفت کے بعد ریلیف مل گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں اہم خاندانی تقریب میں شرکت کی اجازت دے دی، جس کے بعد وہ جیل سے باہر آ سکیں گے۔ عدالت نے ڈیڑھ کروڑ روپے شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی شرط پر سزا معطل کی اور ساتھ ہی پاسپورٹ جمع کرانے، بیرون ملک سفر پر پابندی اور 18 مارچ کو آئندہ سماعت میں حاضری یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔
ضمانت کی خبر سامنے آتے ہی اداکار کے بڑے بھائی سریپال یادو نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کے لیے اس سے بڑی خوشخبری کوئی نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ راجپال اپنی بھانجی کی شادی میں شریک ہو سکیں گے۔ ان کے بقول، “اگر وہ نہ آتے تو شادی کی رونق ہی ادھوری رہ جاتی، وہ ہمارے خاندان کی اصل جان ہیں۔” خاندان کے مطابق تمام تیاریاں مکمل تھیں مگر اچانک قانونی صورتحال نے تشویش پیدا کر دی تھی، تاہم اب فضا خوشیوں سے بھر گئی ہے۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق راجپال یادو نے 2012 میں اپنی ہدایت کاری میں بننے والی فلم اتہ پتا لاپتہ کے لیے کمپنی مرالی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے پانچ کروڑ روپے قرض لیا تھا۔ فلم باکس آفس پر ناکام رہی جس کے باعث مالی بحران پیدا ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور جرمانوں کی مد میں رقم بڑھ کر تقریباً نو کروڑ روپے تک جا پہنچی۔ ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے متعدد چیکس باؤنس ہونے پر ان کے خلاف نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت فوجداری کارروائی شروع کی گئی۔
اکتوبر 2025 میں 75 لاکھ روپے کے دو ڈیمانڈ ڈرافٹس اور بعد ازاں 25 لاکھ روپے کی مزید پیشکش کے باوجود عدالت نے وعدہ خلافی کا نوٹس لیتے ہوئے مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں خاندانی شادی کی بنیاد پر عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی گئی جس پر پیر کے روز سماعت کے بعد ریلیف دیا گیا۔
دوسری جانب بالی وُڈ انڈسٹری بھی مشکل وقت میں راجپال یادو کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ ان کے مینیجر گولڈی کے مطابق سلمان خان، اجے دیوگن، ورون دھون، سونو سود اور ہدایت کار ڈیوڈ دھون سمیت کئی معروف شخصیات نے مالی تعاون کی پیشکش کی۔ بتایا گیا ہے کہ انڈسٹری کے کئی بڑے نام قرض کی ادائیگی میں مدد کے لیے تیار ہیں جس پر اداکار نے دلی تشکر کا اظہار کیا ہے۔
یوں ایک طرف قانونی جنگ جاری ہے تو دوسری جانب خاندان کی خوشیوں میں شرکت کی اجازت نے ایک مشکل مرحلے میں جذباتی موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں 18 مارچ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اس کیس کی اگلی پیش رفت طے ہوگی۔
