وزارت تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے رواں سال کے لیے زکوٰۃ کے نصاب کا اعلان کردیا ہے۔ وزارت کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یکم رمضان المبارک کو تمام مالیاتی اداروں میں موجود سیونگ اکاؤنٹس اور نفع و نقصان میں شراکت دار اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی عمل میں لائی جائے گی۔
ایڈمنسٹریٹر جنرل زکوٰۃ نے اس سال کے لیے زکوٰۃ کے نصاب کو 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے مقرر کیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر یکم رمضان کو کسی بھی اکاؤنٹ میں موجود رقم اس مقررہ نصاب سے کم ہوگی تو اس پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوگی اور اس کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔
اس حوالے سے وزارت نے بتایا کہ زکوٰۃ کی مد میں جو رقم جمع ہوگی، وہ براہِ راست اسٹیٹ بینک کے سینٹرل زکوٰۃ اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی تاکہ اس کی شفاف تقسیم اور انتظام ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی اداروں کے ذریعے زکوٰۃ کے جمع کرنے کے عمل کو منظم بنانا اور مستحقین تک بروقت امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ یکم رمضان المبارک کو تمام مالیاتی ادارے عوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے، تاکہ زکوٰۃ کی کٹوتی کا عمل بلا رکاوٹ اور مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔ وزارت کی ہدایت کے مطابق تمام بینک اور مالیاتی ادارے اپنے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ وہ یہ تصدیق کرسکیں کہ کون سے اکاؤنٹس نصاب کے مطابق زکوٰۃ کے اہل ہیں اور کون سے نہیں۔
وزارت تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کے افسران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام میں مالی شفافیت اور زکوٰۃ کے صحیح نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زکوٰۃ کی کٹوتی صرف نصاب کے مطابق اہل اکاؤنٹس پر کی جائے گی، اور اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہی یا غلطی ناقابل قبول ہوگی۔
ماہرین مالیات اور اسلامی امور کے مطابق، نصاب کا تعین ہر سال معاشی حالات اور افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے تاکہ زکوٰۃ کی ادائیگی مستحقین کے لیے مؤثر اور مناسب ہو۔ رواں سال بھی نصاب کا تعین ملکی معیشت اور بینکوں میں جمع ہونے والی اوسط رقم کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یکم رمضان سے قبل اپنے اکاؤنٹس کا جائزہ لیں اور ضروری معلومات اپنے بینک یا مالیاتی ادارے کے ساتھ شیئر کریں تاکہ زکوٰۃ کی کٹوتی میں کسی قسم کی دقت یا تاخیر نہ ہو۔
یہ بھی بتایا گیا کہ زکوٰۃ کی رقم کے جمع ہونے کے بعد اس کی تقسیم کے لیے مرکزی نظام کے تحت مستحقین تک پہنچانے کا عمل شفاف اور مکمل طریقے سے ہوگا، تاکہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں نیکی کے کام اور مالی مدد میں اضافہ کیا جا سکے۔
