اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے ایک نئی فورس بنانے کا اعلان کر دیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہیں بانی کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا اور ذاتی معالجین تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ “بانی پی ٹی آئی رہائی فورس” کے نام سے ایک منظم پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے گا جس کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ فورس پرامن جدوجہد کرے گی اور اس کا واضح چین آف کمانڈ ہوگا۔ عمران خان جسے ذمہ داری سونپیں گے، وہی اس فورس کی کمان سنبھالے گا۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ عید کے فوراً بعد 22 فروری کو پشاور میں فورس کے ارکان سے حلف لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مکمل تیاری کی جائے گی، پھر تحریک کا آغاز ہوگا۔
انہوں نے اس جدوجہد کو جمہوریت، آئین کی بالادستی اور آزاد میڈیا کے لیے قرار دیا اور کہا کہ یہ تحریک سیاسی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے چلائی جائے گی۔
پارٹی کے اندرونی اختلافات سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کی خواہش رکھنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے ان کے خلاف کوئی پیغام دیا ہے تو اس بارے میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے پوچھا جائے۔
سیاسی حلقوں میں اس اعلان کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ فورس محض علامتی دباؤ کا ذریعہ ہوگی یا عملی طور پر ملک کی سیاسی فضا پر اثر انداز ہو گی۔ آنے والے دنوں میں اس پیش رفت کے اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
