پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے واضح کیا ہے کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے بنائی جانے والی فورس مستقل سیاسی ڈھانچہ نہیں ہوگی بلکہ ان کی رہائی کے بعد اسے خود بخود ختم کردیا جائے گا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ مجوزہ “بانی پی ٹی آئی رہائی فورس” دراصل اسٹریٹ موومنٹ کے تسلسل کا حصہ ہوگی اور اس کا مقصد صرف اور صرف عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن اور منظم جدوجہد کو مربوط کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فورس کسی سیاسی ونگ کی صورت اختیار نہیں کرے گی بلکہ ایک محدود مقصد کے تحت قائم کی جائے گی۔ ان کے مطابق، اس فورس کی باقاعدہ رکنیت ہوگی، ہر شہری اس میں شامل ہوسکے گا اور شمولیت کیلئے باقاعدہ حلف لیا جائے گا تاکہ نظم و ضبط اور پرامن احتجاج کو یقینی بنایا جاسکے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی قیادت نئی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور رمضان المبارک کے بعد اسٹریٹ موومنٹ کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ احتجاج ختم کرنے کے لیے کسی قسم کے بیک ڈور رابطے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور عمران خان کی رہائی تک جدوجہدجاری رہے گی،واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے ایک خصوصی فورس بنانے کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کے بعدسیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہوگیا ہے کہ آیا یہ اقدام احتجاجی تحریک کو نئی سمت دے گا یا سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کرے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فورس کی تشکیل پارٹی کارکنوں کو منظم کرنے اور احتجاجی سرگرمیوں کو باقاعدہ فریم ورک دینے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ تاہم ناقدین اسے سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ اعلان اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تو دوسری جانب اسٹریٹ پاور کے استعمال کی حکمت عملی نے سیاسی فضا کو مزید گرم کر دیا ہے۔
شفیع جان کے مطابق، یہ فورس وقتی ہوگی اور عمران خان کی رہائی کے بعد اسے تحلیل کردیا جائے گا، تاہم اس کے قیام اور ممکنہ سرگرمیوں پر آئندہ دنوں میں سیاسی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ رمضان کے بعد احتجاجی سیاست کا نیا مرحلہ ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے
