پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا مارچ کے دوسرے ہفتے میں روس کا اہم سرکاری دورہ متوقع ہے، جس کے لیے سفارتی اور انتظامی سطح پر تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاک–روس تعلقات میں مزید وسعت اور عملی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف روسی قیادت اور دیگر اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ امکان ہے کہ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی و اقتصادی تعاون، توانائی کے شعبے میں شراکت داری اور خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی اور علاقائی تعاون کے امکانات پر سنجیدہ غور جاری ہے، اور دونوں ممالک تعلقات کو عملی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنے دورۂ روس کے دوران وہاں مقیم پاکستانی تاجر برادری سے خصوصی ملاقات کریں گے، جس میں سرمایہ کاری، تجارتی مواقع اور درپیش مسائل پر گفتگو کی جائے گی۔ اس کے علاوہ روس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ایک خصوصی نشست بھی متوقع ہے، جہاں وزیراعظم ان کے مسائل سنیں گے اور حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاک–روس تعلقات کو نئی سمت دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کی بات چیت جاری ہے۔ وزیراعظم کا یہ متوقع دورہ ان روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں دورے کے شیڈول اور ملاقاتوں کی باضابطہ تفصیلات بھی جاری کی جائیں گی، جبکہ دونوں ممالک اس دورے کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
