سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کیے گئے 10 ارب روپے کے ہرجانہ دعوے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور قرار دیا کہ معاملے کو تفصیلی جائزے تک مؤخر کیا جائے، جبکہ شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آج دوسری جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا، جبکہ انہوں نے اس مقدمے میں اپنے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو ججز نے حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔ عمران خان کے وکیل علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ٹانگ میں گولی لگی تھی اور زخمی ہونے کے باعث وہ ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہو سکے، تاہم اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر ان کا حق دفاع ختم کر دیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کتنی رقم کے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ 10 ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے دو مواقع پر بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کو تسلیم کیا، تو پھر ایسے میں حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے واضح کیا کہ دوسرے فریق کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ سماعت پر تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کا فیصلہ اس مقدمے میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف حق دفاع کے اصول پر بحث دوبارہ کھلے گی بلکہ ہرجانہ دعوے کی قانونی بنیادوں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ کیس کی آئندہ سماعت میں فریقین کے دلائل کے بعد مزید پیش رفت متوقع ہے۔
