لاہور میں محکمہ داخلہ پنجاب نے شہریوں کے لیے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی تازہ فہرست منظر عام پر لائی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فہرست میں 89 ایسے ادارے شامل ہیں جو قانونی طور پر غیر فعال یا غیر رجسٹرڈ ہیں اور ان سے کسی بھی قسم کی مالی یا دیگر معاونت قانونی طور پر جرم کے زمرے میں آتی ہے۔
محکمہ داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زکوٰۃ، خیرات، عطیات یا مالی امداد صرف وہ ادارے دیں جو پنجاب چیریٹی کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہوں۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف عطیات کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے بلکہ کالعدم اور ریاست مخالف تنظیموں کی ممکنہ سرگرمیوں پر قانونی کنٹرول قائم کرنا بھی ہے۔ غیر رجسٹرڈ یا کالعدم اداروں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد قانون کے شکنجے میں آئیں گے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم تنظیموں سے کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنا سخت جرم ہے اور اس کی سزائیں بھی واضح طور پر قانون میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ عطیات دینے سے قبل ادارے کی رجسٹریشن، قانونی حیثیت اور مالی شفافیت کی تصدیق کریں تاکہ دی گئی امداد براہِ راست مستحقین تک پہنچ سکے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام شفافیت، مالی نگرانی اور شہری شعور کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ اداروں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ قانونی اور اخلاقی طور پر بھی عوام کو اپنے عطیات کے محفوظ استعمال کا اعتماد حاصل ہوگا۔ حکومت کی یہ کوشش اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ عطیات کا استعمال سماجی اور اقتصادی فلاح کے لیے ہو اور یہ محروم اور مستحق طبقات تک پہنچ سکے۔
اس اقدام کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت نے عوام میں آگاہی مہم بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ لوگ کالعدم یا غیر رجسٹرڈ اداروں کے بارے میں محتاط رہیں اور صرف قانونی اداروں کو ہی مالی تعاون فراہم کریں۔ اس سے نہ صرف دہشت گردی کے ممکنہ مالی وسائل کم ہوں گے بلکہ خیرات اور سماجی فلاح کے شعبے میں شفافیت بھی بڑھے گی
